جمعرات کی شب ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔
ایرانی حکام نے الزام لگایا کہ امریکہ نے جنگ بندی معاہدے (7 اپریل) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی آئل ٹینکر اور فجیرہ کے قریب ایک جہاز کو نشانہ بنایا۔
پاسداران انقلاب کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے فوری جوابی کارروائی کی اور امریکی فوجی جہازوں کو نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا نے بندرعباس اور قشم جزیرے کے قریب دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، تاہم سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ "زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ تین امریکی تباہ کن جہازوں پر حملہ ہوا لیکن کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی "جارحیت پسندوں” کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ٹرمپ نے فائرنگ کے تبادلے کو "ایک چھوٹا دوستانہ دھچکا” قرار دیا اور کہا کہ جنگ بندی اور امریکی پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بیان میں کہا کہ ایرانی حملے "بلا اشتعال” تھے اور امریکی افواج نے دفاعی کارروائی کی۔
سینٹکام نے مزید کہا کہ کسی امریکی اہلکار یا آلات کو نقصان نہیں پہنچا اور افواج "مکمل الرٹ” پر ہیں۔
ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ "جلد ختم ہو جائے گی” اور وہ 14 نکاتی مفاہمت کی یادداشت کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
Share this content:


