جنگ بندی: ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جاری جواب کو ناقابل قبول قرار دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز پر ایران کے جواب کو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیے جانے کے بعد ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب چین میں تعینات ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ ’کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے لازم ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کی ضمانت کے ساتھ ہو اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پیش کیا جائے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی تجاویز کے جواب کو مسترد کر دیا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر اپنے مختصر پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران کے نام نہاد ’نمائندوں‘ کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی پیشکش پر ایران کی جانب سے دیے گئے جواب کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ جواب پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا تھا جو اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

اسی ہفتے کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا تھا کہ ایران میں جنگ ’جلد ختم ہو جائے گی‘۔ تاہم اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ’ختم‘ کیے بغیر ایران کے خلاف جنگ کو ختم شدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجاویز پر ایران کے ردِ عمل کو ’مکمل طور پر نا قابلِ قبول‘ قرار دیے جانے کے بعد ایشیا میں پیر کی صبح تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے امریکہ کو اپنا جواب پاکستان کے ذریعے بھجوایا تھا۔

امریکی صدر کی جانب سے ایرانی جواب مسترد کیے جانے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 3.8 فیصد اضافے کے ساتھ 105.20 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ امریکہ میں فروخت ہونے والے خام تیل کی قیمت چار فیصد بڑھ کر 99.30 ڈالر ہو گئی۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے اہم آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز عملاً بند ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔

Share this content: