تحریر: حبیب الرحمن
جبر، قومی محرومی، معاشی عدم مساوات، سیاسی بے اختیاری، قبضے اور سماجی ذلت کی اتنی شکلیں موجود ہونے کے باوجود وہ خود رو عوامی بیداری کیوں پیدا نہیں ہو سکی جو ایک منظم مزاحمتی لہر میں بدل کر سماج کو نئی سمت دے۔
جبر اپنی موجودگی سے خود بخود مزاحمت پیدا نہیں کرتا، بلکہ مزاحمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب لوگ اپنے انفرادی دکھ اور محرومی کو ایک اجتماعی تجربے کے طور پر پہچاننا شروع کریں۔ آزاد جموں و کشمیر کے سماج میں اگرچہ جبر، قومی محرومی اور قبضے کی کئی صورتیں موجود ہیں مگر انہیں اکثر ذات، برادری، مذہب، فرقہ، زبان اور علاقائی شناختوں کے اندر تقسیم کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں مشترک محرومی ایک مشترک سیاسی شعور میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔
فینن کے مطابق محکوم طبقے کو اپنی حالت کا ادراک اس وقت نہیں ہوتا جب وہ ظلم سہتا ہے، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ظلم ایک اجتماعی ساخت کا حصہ ہے۔ یعنی جب کہا جاتا ہے کہ ظلم ایک اجتماعی ساخت کا حصہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ سمجھنے لگے کہ اس کے ساتھ ہونے والا ظلم کوئی انفرادی حادثہ یا ذاتی ناکامی نہیں بلکہ ایک پورے سماجی، سیاسی اور معاشی نظام کا نتیجہ ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے تناظر میں یہ نظام صرف طبقاتی یا معاشی نہیں بلکہ قومی اور سیاسی بھی ہے۔ یہاں کے عوام طویل عرصے سے سیاسی بے اختیاری، وسائل پر محدود اختیار، نمائندگی کے بحران اور ریاستی فیصلوں میں حقیقی شمولیت سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ صورتحال ایک ایسے قبضے کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں مقامی آبادی اپنی زمین، وسائل اور سیاسی مستقبل پر مکمل اختیار نہیں رکھتی۔
مثلاً ایک کسان اگر زمین سے محروم ہے تو وہ پہلے یہ سمجھتا ہے کہ میری قسمت خراب ہے یا میرا وڈیرہ طاقتور ہے، لیکن جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہزاروں کسان اسی طرح بے زمین ہیں، تو اسے احساس ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف اس کا ذاتی نہیں بلکہ زمین کی تقسیم کے پورے نظام کا ہے۔ اسی طرح ایک مزدور اگر کم اجرت پا رہا ہے تو وہ پہلے سوچتا ہے کہ میرے مالک نے میرے ساتھ زیادتی کی، لیکن جب وہ اردگرد دیکھتا ہے تو کم اجرت، غیر محفوظ روزگار اور محنت کا استحصال پورے معاشی ڈھانچے کی خصوصیت ہیں، تو وہ اپنے مسئلے کو ذاتی نہیں بلکہ طبقاتی مسئلہ سمجھنے لگتا ہے۔
اسی طرح جب ایک نوجوان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی قومی شناخت، سیاسی آواز اور اجتماعی مستقبل مسلسل بیرونی طاقت کے زیرِ اثر ہیں، تو اس کا مسئلہ صرف ذاتی محرومی نہیں رہتا بلکہ قومی محرومی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اجتماعی ساخت کی سمجھ دراصل اجتماعی شعور کا باعث بنتی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے سماج میں یہ ادراک مسلسل کمزور کیا جاتا ہے۔ یہاں طاقت کے مراکز صرف ریاستی جبر سے نہیں بلکہ ثقافتی اور نظریاتی ذرائع سے بھی کام کرتے ہیں۔ مذہبی تعبیرات، برادری نظام، جاگیردارانہ تعلقات اور سرپرستی کی سیاست اکثر محروم طبقات کو اپنے حالات کے خلاف اجتماعی مزاحمت کے بجائے انفرادی بقا کی طرف دھکیلتی ہیں۔ نتیجتاً غصہ تو پیدا ہوتا ہے، مگر وہ اجتماعی شعور میں ڈھلنے کے بجائے منتشر ہو جاتا ہے۔
ایک دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ جو مزاحمتی توانائیاں پیدا بھی ہوتی ہیں، وہ اکثر رسمی سیاست یا اشرافیہ کے ہاتھوں جذب ہو جاتی ہیں۔ کوئی مقامی احتجاج، کوئی عوامی مطالبہ یا طبقاتی بے چینی جلد ہی کسی جماعت، کسی برادری یا کسی مقتدر گروہ کے سیاسی مفاد میں جذب ہو جاتی ہے۔
مثلاً مہنگائی، بجلی، پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، تعلیم اور صحت کی عدم دستیابی، بے روزگاری، کاروباری جمود، صنعتی زوال، قومی محرومی اور سیاسی بے اختیاری ایسے مادی عوامل ہیں جو وسیع عوامی بے چینی اور مزاحمتی توانائی پیدا کرتے ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو مختلف طبقات کو ایک مشترک تکلیف میں جوڑ سکتے ہیں اور ایک وسیع اجتماعی شعور کو جنم دے سکتے ہیں۔
لیکن عملی طور پر اکثر یہ ہوتا ہے کہ جیسے ہی یہ عوامی بے چینی ابھرنے لگتی ہے، رسمی سیاسی جماعتیں، خصوصاً اپوزیشن میں موجود قوتیں، اسے اپنے سیاسی بیانیے میں جذب کر لیتی ہیں اور عوامی غصہ ایک خود مختار سماجی قوت یعنی تحریک بننے کے بجائے کسی جماعتی حکمت عملی کا حصہ بن جاتا ہے۔ یوں عوامی توانائی اپنی آزاد سمت برقرار نہیں رکھ پاتی۔ فینن کے مطابق عوامی بیداری اپنی خود مختاری کھو دیتی ہے اور ایک بار پھر اشرافیہ کے ایجنڈے کا حصہ بن جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ طویل جبر صرف غصہ پیدا نہیں کرتا، وہ بعض اوقات مایوسی اور بے بسی بھی پیدا کرتا ہے۔ جب ایک سماج مسلسل ناکامیوں، ٹوٹے ہوئے وعدوں اور نامکمل تبدیلیوں کا تجربہ کرتا ہے تو اس کے اندر یہ احساس بیٹھنے لگتا ہے کہ تبدیلی ممکن نہیں۔
یہاں مسئلہ صرف جبر کی موجودگی کا نہیں، بلکہ اس اجتماعی شعور کی عدم تکمیل کا ہے جو اس جبر، قومی محرومی اور قبضے کو ایک مشترک سیاسی سوال میں بدل سکے۔ جب تک مختلف محروم طبقات اپنے بکھرے ہوئے دکھ کو ایک مشترک تاریخی تجربے کے طور پر نہیں دیکھتے یعنی کسان کہے میرا مسئلہ صرف زمین ہے، مزدور کہے میرا مسئلہ صرف اجرت ہے، طالب علم کہے میرا مسئلہ صرف تعلیم ہے، عورت کہے میرا مسئلہ صرف صنفی جبر ہے، اور نوجوان کہے میرا مسئلہ صرف سیاسی بے اختیاری ہے، تو سب بکھرے رہیں گے۔
لیکن جب یہ سب یہ سمجھنے لگیں کہ ہم سب کے مسائل کی جڑ ایک ہی غیر منصفانہ سماجی، معاشی اور سیاسی نظام میں ہے تو ان کے الگ الگ دکھ ایک مشترک تاریخی تجربہ بن جاتے ہیں۔ تاریخی اس لیے کہ یہ صرف آج کا مسئلہ نہیں بلکہ نسلوں سے چلتا ہوا ایک فرسودہ اور غیر منصفانہ ڈھانچہ ہے، اور مشترک اس لیے کہ مختلف شکلوں کے باوجود اس کی جڑ ایک ہے۔
انتہائی اہم بات یہ ہے کہ جب تک محروم طبقات کے پاس ایک واضح متبادل سماجی و سیاسی تصور نہیں ہوگا، مزاحمت اپنی مکمل شکل اختیار نہیں کر سکے گی۔ یعنی اگر ایک کسان وڈیرہ شاہی کے خلاف کھڑا ہوتا ہے تو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ وڈیرہ ختم ہونا چاہیے، سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟ زمین کس کے پاس ہوگی؟ زمین کی تقسیم کیسے ہوگی؟ پیداوار کا اختیار کس کے پاس ہوگا؟ فیصلے گاؤں میں کون کرے گا؟ وڈیرہ یا عوامی کمیٹی؟
اگر لوگ موجودہ اشرافیہ، مرکزی کنٹرول اور سیاسی قبضے کے خلاف ہیں تو پھر متبادل کیا ہے؟ کیا طاقت پھر کسی نئے لیڈر کے پاس جائے گی؟ یا اختیارات نچلی سطح پر، یونین کونسل، گاؤں، محلے اور مزدور کونسلوں تک منتقل ہوں گے؟ فیصلہ سازی عوامی ہوگی یا پھر دوبارہ اوپر مرکوز ہو جائے گی؟
صرف غصہ انقلاب نہیں بناتا، متبادل تصور انقلاب کو سمت دیتا ہے۔ محکوم طبقے کے پاس یہ واضح نہ ہو کہ نیا سماج کیسا ہوگا تو اکثر ہوتا یہ ہے کہ وہ پرانے نظام کو گرا تو دیتے ہیں، مگر اس کی جگہ وہی ڈھانچہ نئے چہروں کے ساتھ واپس آ جاتا ہے۔
اسی لیے اگر متبادل تصور پیدا نہیں ہوتا، مزاحمت چھوٹے چھوٹے ردِعمل تو پیدا کرے گی، مگر وہ ایک وسیع سماجی، قومی اور سیاسی تبدیلی کی لہر میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔
٭٭٭
Share this content:


