اسلام آباد ہائی کورٹ: شادی کے دوران حاصل تمام اثاثے ’ازدواجی جائیداد‘ قرار

اسلام آباد/کاشگل نیوز

پاکستان میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک تاریخی اور اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ شادی کے دوران حاصل ہونے والے تمام اثاثے “میٹر یمونیئل پراپرٹی” (ازدواجی جائیداد) تصور ہوں گے، خواہ وہ کسی ایک فریق کے نام پر ہی کیوں نہ ہوں، اور طلاق یا علیحدگی کی صورت میں ان کی منصفانہ تقسیم کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ شادی کو محض سماجی تعلق نہیں بلکہ ایک اقتصادی شراکت داری (economic partnership) کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دورانِ شادی حاصل ہونے والی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد، چاہے وہ شوہر یا بیوی میں سے کسی کے نام پر ہو، دونوں کی مشترکہ ملکیت سمجھی جائے گی اور اس کی تقسیم برابری یا منصفانہ بنیادوں پر کی جانی چاہیے۔

فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عدالت نے گھریلو خواتین کے کردار کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ:

گھر سنبھالنا، بچوں کی پرورش اور گھریلو ذمہ داریاں ادا کرنا بھی معاشی سرگرمی کے برابر ہے۔

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ صرف کمانے والے فریق (اکثر شوہر) کو ترجیح دینا ناانصافی ہے، کیونکہ ایک گھریلو خاتون کی محنت ہی وہ بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر خاندان کی معاشی ترقی ممکن ہوتی ہے۔

مزید برآں، عدالت نے قرار دیا کہ بیوی—چاہے وہ گھریلو خاتون ہو یا ملازمت پیشہ—شادی کے دوران بننے والے اثاثوں میں کم از کم 50 فیصد حصے کی حقدار ہو سکتی ہے، اور اس اصول کو نکاح نامے میں بھی شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ فیصلہ ایک سابق خاتون افسر کی جانب سے دائر درخواست کے پس منظر میں سامنے آیا، جس میں جہیز اور دیگر مالی حقوق کے حوالے سے نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ سماعت کے لیے بھجوا دیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان میں خواتین کے مالی اور ازدواجی حقوق کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے پہلی بار گھریلو کام کو باقاعدہ معاشی قدر دی گئی ہے اور شادی کو مشترکہ سرمایہ کاری کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت نہ صرف عدالتی نظام میں ایک اہم نظیر قائم کرتی ہے بلکہ مستقبل میں قانون سازی اور نکاح نامے کی شرائط میں تبدیلی کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے، جس سے خواتین کے حقوق کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔

Share this content: