امریکہ کا ایران سے افزودہ یورینیئم نکالنے اور تیل پر قبضے کے لیے ممکنہ زمینی فوجی آپریشن پر غور

وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ وزنی افزودہ یورینیئم ضبط کرنے کے لیے ایک ممکنہ فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی سکیورٹی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کا کوئی بھی آپریشن نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہوگا، اور اس میں امریکی فوج کو ’’کئی دنوں یا اس سے بھی زیادہ عرصے‘‘ تک ایران میں رہنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق خطے میں تعینات امریکی فوجی دستوں کو اصفہان میں موجود زیرِ زمین جوہری تنصیبات سے مواد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ انہیں جزیرہ خارگ یا آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اس ماہ کے اوائل میں بتایا تھا کہ اصفہان کے پہاڑوں کے اندر وہ مواد موجود ہے جسے امریکہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ صدر ایران سے یورینیئم ضبط کرنے یا جزیرہ خارگ پر زمینی کارروائی جیسے آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران یہ مواد حوالے کرنے کے قریب ہے، اور اگر اس نے ایسا نہ کیا تو ’’اس کے پاس ملک ہی نہیں بچے گا۔‘‘

دوسری جانب ایران نے امریکی بیانات کو دھمکی قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی بات کو زمینی حملے کی تیاری چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران ’’سرینڈر‘‘ قبول نہیں کرے گا اور ایرانی فورسز ’’امریکی فوجیوں کے انتظار میں ہیں۔‘‘

خطے میں اس وقت ہزاروں امریکی میرینز، خصوصی دستے اور پیرا ٹروپرز پہلے ہی موجود ہیں، جس سے قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں کہ واشنگٹن کسی ممکنہ کارروائی کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اس حوالے سے بی بی سی کی جانب سے کیے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

Share this content: