پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو گیا ہے، جو اس وقت تکنیکی ماہرین کی سطح پر جاری ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق دونوں فریقین اس مرحلے میں اپنے اپنے مطالبات کے تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان سربراہان کی سطح پر ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے، جسے دو سرکاری عہدیداروں نے بی بی سی اردو سے گفتگو میں "مثبت” قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس پریس پول کے مطابق امریکا کی جانب سے مختلف شعبوں کے تکنیکی ماہرین اسلام آباد میں موجود ہیں، جبکہ واشنگٹن سے بھی اضافی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
ایرانی وفد میں بھی اعلیٰ سطح کے حکام شامل ہیں، جن میں ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ڈاکٹر ناصر ہمتی بھی شامل ہیں۔
ایرانی حکومت کی انفارمیشن کونسل کے ترجمان محمد گلزاری نے کہا ہے کہ پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں ایرانی اور امریکی ماہرین کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ جاری ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق گلزاری نے بتایا کہ سنیچر کی صبح سے ایرانی کمیٹیوں نے متعدد اجلاس منعقد کیے، مختلف مؤقف کا جائزہ لیا اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیاری کی۔
ان کے مطابق سہ فریقی مذاکرات کا آغاز لبنان میں کشیدگی، بیروت پر حملوں کی بندش کی اطلاعات، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر ایرانی انتباہات اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی کے پس منظر میں ہوا۔
گلزاری نے کہا کہ جیسے جیسے مذاکرات کا ماحول سنجیدہ ہوتا گیا، بات چیت ماہرین کے مرحلے میں داخل ہو گئی، جس کے بعد ایرانی وفد کی خصوصی کمیٹیوں کے بعض ارکان بھی اسلام آباد روانہ ہوئے۔
ان کے مطابق بالمشافہ بات چیت کے اختتام کے بعد ایرانی اور امریکی ماہرین کی ٹیمیں اس وقت زیرِ بحث امور پر تحریری مسودوں کا تبادلہ کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر کی ہدایت کے مطابق اعلیٰ سطحی ایرانی وفد "پوری قوت کے ساتھ قومی مفادات کا دفاع” کر رہا ہے۔
Share this content:


