اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودہ کو ہلاک کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں لکھا کہ محمد عودۃ 7 اکتوبر کے حملوں کے وقت حماس کی انٹیلی جنس کے سربراہ تھے اور انھیں عزالدین حداد کی موت کے بعد ایک ہفتے قبل ہی حماس کے عسکری ونگ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ محمد عودہ اسرائیلی شہریوں اور فوجی اہلکاروں کے ’قتل، اغوا اور انھیں زخمی‘ کرنے کے ذمہ دار تھے۔
’ہم ان تمام لوگوں کا پیچھا کرنا جاری رکھیں گے جنھوں نے 7 اکتوبر کے قتلِ عام میں حصہ لیا تھا۔ جلد یا بدیر اسرائیل ان سب تک پہنچے گا۔‘
حماس نے تاحال محمد عودۃ کی موت کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
دوسری جانب مقامی امدادی کارکنوں اور عینی شاہدین کے مطابق غزہ شہر کے ایک مصروف ترین بازار میں واقع رہائشی عمارت پر اسرائیل کے فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم تین فلسطینی ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی حملے میں غزہ شہر کے مرکز میں واقع الکیالی عمارت کی بالائی تین منزلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد عید الاضحیٰ سے قبل خریداری کے لیے آئی ہوئی تھی۔
امدادی اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، لیکن شدید تباہی اور علاقے میں ہجوم کے باعث عمارت کی بالائی منزلوں تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ کم از کم پانچ میزائل تقریباً بیک وقت اور مختلف سمتوں سے عمارت پر آ گرے۔
یہ غزہ پر اسرائیل کا تازہ ترین مہلک حملہ ہے۔
Share this content:


