پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے اکتالیسویں یوم تاسیس کے موقع پر باغ برانچ نے ایک اسٹڈی نشست کا انعقاد کیا۔
نشست میں عوامی ایکشن کمیٹی باغ کے متحرک دوستوں امجد اسلام امجد، عثمان کاشر ، کامریڈ تیمور، سبیل احمد نے خصوصی شرکت کی۔
"خطے کی بدلتی صورتحال ،سامراج کے عقبی مورچوں پر کاری ضرب ، انقلابی قوتوں کا کردار”موضوع کو زیر بحث لایا گیا۔
زوال پزیر سرمایہ داری کا وحشیانہ روپ دنیا کے سامنے آیا ہے، امریکی و اسرائیلی سامراج نے ایران پر حملہ آور ہو کر ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے وسائل پر مکمل قبضہ کرنے کی غرض سے نہتے ایرانی عوام کا قتل عام کیا جو قابل مذمت ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ امریکی سامراج کی یہ تاریخ ہے کہ دنیا کے وسائل پر قبضے جیسے عزائم پر اس نے محنت کشوں کا کشت وخون کیا ہے، مشرق وسطیٰ میں اس سے قبل عراق، لیبیا، اردن، شام وغیرہ کے محنت کشوں کے قتل سے سامراجی ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔
ایران میں رجیم چینج جیسے مقاصد سامراج کے قبضہ گیریت کے عزائم کے لیے موت ثابت ہوئے ہیں، ایرانی عوام داخلی تضاد کے باوجود ان تضادات کو ایک طرف رکھ کر بطور قوم و عوام متحد اور منظم ہوئے اور اجتماعی جزبہ قربانی سامراج کے لیے حیران کن ثابت ہوا۔
سامراج کے دیگر خلیجی ممالک میں موجود محاصرے کے لیے قائم اڈوں کی تباہی نے مشرقِ وسطیٰ میں سامراج کو کمزور کیا یہ سامراج کے عقبی مورچوں پرکاری ضرب ہے جس سے سامراج شدید کمزور ہوا ہے اور محکوم اقوام ، نوآبادیاتی سماجوں سمیت مزدور بین الاقوامی تحریک کو قوت اور طاقت ملی ہے۔
ایران کے اندر موجود معاشی تنگدستی، سماجی ناہمواری اور سیاسی ڈھانچے کی کمزوریوں اور آمرانہ شکلوں پر بحث موجود تھی موجود ہے اور موجود رہے گی لیکن ان سارئے داخلی مسائل کے باوجود سامراج کے خلاف ایرانی عوام کا ڈٹ جانا محکوم سماجوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اب ٹیکس دینا ہو گا اس ٹیکس کو ایرانی عوام کی معاشی تنگدستی کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ چونکہ جنگیں محنت کش عوام کے لیے تباہی اور بربادی ہی لاتی ہیں سرمایہ داروں اور بالادست طبقات کے لیے منافع بخش ہوتی ہیں البتہ اس جنگ سے جب امریکی سامراج باہر نکلے گا تو وہ طاقتور اور بدمعاش سامراج نہیں ہو گا۔
اس جنگ نے نہ صرف طاقت کے توازن کو بدلا ہے بلکہ سامراج کے عقبی مورچوں پر اتنی کاری ضرب لگائی ہے کہ مستقبل میں مغرب سے طاقت مشرق کی طرف بدلتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔
ان حالات میں پسماندہ اور محکوم سماجوں کی انقلابی قوتوں کو یہ کردستان ادا کرنا ہو گا کہ محنت کش عوام کو منظم کریں، انقلابی پارٹیوں کی تعمیر کی جدوجہد کو تیز کریں اور بالادست حکمران طبقے اور محنت کش عوام میں موجود تضاد کو گہرا کریں ۔ مستقبل میں کمزور سماج جو سامراج کے عقبی مورچے ہیں سوشلزم کی طرف سفر یقینی بناہیں گے بشرطیکہ انقلابی قوتیں اپنے آپ کو تعمیر کریں ۔
آخر میں کچھ سوالات پر بھی بحث کی گئی ۔
مہمان دوستوں نے جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی باغ برانچ کو یوم تاسیس کے موقع پر پر مغز اسٹڈی نشست منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کی اور برسٹر قربان علی کی جدوجہد کو خراج پیش کیا۔
Share this content:


