پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے وفود اپنے اپنے دارالحکومت روانہ ہو گئے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر سخت شرائط اور لچک نہ دکھانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات ’’بداعتمادی کے ماحول‘‘ میں شروع ہوئے تھے اور ایک ہی نشست میں جامع معاہدے کی توقع غیر حقیقی تھی۔
ان کے مطابق متعدد نکات پر اتفاق ہوا، مگر ’’دو، تین اہم نکات‘‘ پر اختلاف رائے برقرار رہا، جس کے باعث معاہدہ طے نہ ہو سکا۔
بقائی نے بتایا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز جیسے نئے معاملات بھی شامل کر دیے گئے، جن کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران، پاکستان اور خطے کے دیگر دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ ’’سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی‘‘۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ نے مذاکرات میں ’’کافی لچک‘‘ دکھائی، مگر ایران نے بنیادی شرائط ماننے سے انکار کر دیا۔
ان کے مطابق امریکہ کی بنیادی شرط یہ تھی کہ ایران واضح اور قابلِ تصدیق یقین دہانی دے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی جوہری صلاحیت کے لیے درکار آلات حاصل کرے گا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کی موجودہ افزودگی صلاحیت پہلے ہی تباہ کی جا چکی ہے، ’’لیکن کیا ہم ایران میں یہ آمادگی دیکھ رہے ہیں کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے؟ یہ آمادگی ہمیں نظر نہیں آئی۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں پر بھی بات ہوئی، مگر اس نکتے پر بھی کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وفد 10 اپریل کی رات پاکستان پہنچا اور مذاکرات سے قبل آرمی چیف اور وزیر اعظم سے ملاقاتیں کیں۔ 11 اپریل کی دوپہر ایک بجے مذاکرات کا آغاز ہوا، جو 21 گھنٹے سے زائد جاری رہے۔
ایرانی نیوز ایجنسیوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے متعدد تجاویز پیش کیں، مگر ’’امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات‘‘ نے کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی۔
امریکی نائب صدر نے بھی پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اورآرمی چیف عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکی نائب صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کا دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر کیا اثر پڑے گا۔ فی الحال یہ بھی معلوم نہیں کہ مذاکرات کا اگلا دور کب، کہاں اور کس طریقۂ کار کے تحت ہوگا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے ’’غیر معقول مطالبات‘‘ کیے اور لچک نہیں دکھائی۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران نے بنیادی شرائط تسلیم نہیں کیں، جبکہ امریکہ نے ’’نیک نیتی‘‘ اور ’’لچک‘‘ کا مظاہرہ کیا۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ آیا فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں گے یا خطے میں جاری کشیدگی کسی نئے مرحلے میں داخل ہو گی۔
Share this content:


