کاشگل نیوزخصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ گلیوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں گھومتے یہ کتے نہ صرف خوف و ہراس کا باعث ہیں بلکہ معمولاتِ زندگی کو بھی بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار اس صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ گزشتہ برس ضلع باغ میں ڈاگ بائٹ کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، جہاں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال باغ کے مطابق جنوری سے دسمبر تک تقریباً 800 افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہوئے۔ پانچ لاکھ کے لگ بھگ آبادی والے ضلع کے لیے یہ تعداد تشویشناک سمجھی جا رہی ہے۔
مقامی شہریوں کے مطابق زیادہ تر واقعات شہری علاقوں، خصوصاً مصروف بازاروں میں پیش آتے ہیں جہاں آوارہ کتے جھنڈ کی صورت میں موجود ہوتے ہیں اور راہگیروں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ والدین بچوں کو اکیلے باہر بھیجنے سے گھبراتے ہیں جبکہ بزرگ افراد بھی شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
دوسری جانب، جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد اس مسئلے کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے، اور اس پر قابو پانے کے لیے سائنسی اور انسانی بنیادوں پر اقدامات ناگزیر ہیں۔
انجمن حقوقِ صارفین کے چیئرمین شاہد اعوان نے کتوں کو زہر دے کر مارنے کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ طریقہ غیر انسانی ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول اور انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
علاج کے حوالے سے بھی شہری مشکلات کا شکار ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں عموماً ریبیز ویکسین کی صرف ابتدائی خوراک دستیاب ہوتی ہے، جبکہ باقی خوراکیں متاثرہ افراد کو اپنی جیب سے خریدنا پڑتی ہیں، جو کہ مہنگی ہونے کے باعث غریب طبقے پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں۔
ماہرین اس مسئلے کے حل کے لیے مربوط حکمت عملی پر زور دیتے ہیں، جس میں آوارہ کتوں کی ویکسینیشن، نس بندی (اسٹرلائزیشن) اور عوامی آگاہی مہم شامل ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ وقتی اقدامات کے بجائے مستقل اور پائیدار حل اپنانا ہی اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔
جب تک مؤثر اور سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جاتے، آوارہ کتوں کا یہ مسئلہ شہریوں کے لیے ایک مستقل خطرہ بنا رہے گا۔
Share this content:


