15اپریل 1912،ٹائی ٹینک حادثہ آج بھی دنیا کو لرزا دیتا ہے۔آج کے دن یہ “ناقابلِ غرق” کہلانے والا جہاز سمندر بردہوا۔
15 اپریل تاریخ کا وہ دن ہے جو سمندری سفر کی تاریخ میں ایک المناک باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ سن 1912 میں اسی روز دنیا کا مشہور بحری جہاز RMS Titanic شمالی بحرِ اوقیانوس میں ڈوب گیا، جسے اُس وقت “ان سنک ایبل” یعنی کبھی نہ ڈوبنے والا جہاز کہا جاتا تھا۔
برطانیہ سے امریکہ کے پہلے سفر پر روانہ ہونے والا ٹائٹینک اپنے وقت کا سب سے بڑا اور جدید بحری جہاز تھا۔ جدید ٹیکنالوجی اور پرتعیش سہولیات سے لیس اس جہاز کو انسانی انجینئرنگ کا شاہکار قرار دیا جا رہا تھا، مگر قدرت کے سامنے یہ دعوے زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے۔
14 اپریل کی رات ٹائٹینک ایک بڑے برفانی تودے (آئس برگ) سے ٹکرا گیا۔ ٹکراؤ کے بعد جہاز کے نچلے حصے میں پانی داخل ہونا شروع ہوا اور چند ہی گھنٹوں میں پورا جہاز سمندر کی تہہ میں جا پہنچا۔
اس افسوسناک حادثے میں 1500 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ تقریباً 710 افراد کو بچا لیا گیا۔ ناکافی لائف بوٹس اور ہنگامی اقدامات کی کمی اس سانحے میں جانی نقصان کی بڑی وجوہات بنیں۔
ٹائٹینک کا حادثہ نہ صرف ایک سمندری سانحہ تھا بلکہ اس نے دنیا کو یہ سبق بھی دیا کہ ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کر لے، قدرت کے سامنے انسان کی طاقت محدود ہے۔
آج، ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود، ٹائٹینک کا حادثہ دنیا بھر میں دلچسپی، تحقیق اور فلموں کا موضوع بنا ہوا ہے، جو اس سانحے کی گہرائی اور اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔
Share this content:


