حکومت پاکستان اور عوامی ایکشن کمیٹی میں ڈیڈ لاک، 9 جون کو ہڑتال کی کال برقرار

پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مابین دس گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 9 جون کی احتجاجی کال پر قائم ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر نے میڈیا کے سامنے اعلامیہ پڑھتے ہوئے کہا کہ:
"جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، حکومتِ پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت کے درمیان دن بھر مذاکرات جاری رہے۔ اس دوران مہاجرین نشستوں کے خاتمے اور معاہدۂ مظفرآباد پر حکومتی بدعہدیوں سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس تمام عمل کے دوران مختلف ایشوز پر تجاویز کا تبادلہ بھی کیا گیا۔

اس کے بعد حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر نے 9 جون کی کال کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کی کال برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی تیاریوں کو مزید تیز کریں۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی حکمرانوں کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے ہر سنجیدہ کوشش کا خیرمقدم کرتی ہے اور اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ آئندہ بھی ہر مثبت اور سنجیدہ پیش رفت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔”

دوسری جانب رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"مذاکرات بالکل ناکام نہیں ہوئے۔ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہمارے انتہائی خوشگوار ماحول میں مذاکرات ہوئے ہیں۔ ہم نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں اور انہوں نے بھی اپنی تجاویز ہمارے سامنے رکھیں۔
ان تجاویز پر آئندہ ہفتے بھی گفتگو کا عمل جاری رہے گا۔ اس سلسلے میں حکومتِ آزاد کشمیر اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ اس صورتحال اور ان مطالبات پر ایک آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جائے گی تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

اس کے بعد 6 یا 7 جون کو ایک حتمی اجلاس ہونے کا امکان ہے، جس میں آئندہ کے لائحۂ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔”

Share this content: