کانگو میں ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز

طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے ایک ’انتہائی تشویشناک‘ صورتحال پیدا کر دی ہے۔

وبا کے اعلان کے دو ہفتے بعد تنظیم کے نائب ڈائریکٹر ڈاکٹر ایلن گونزالیز نے کہا کہ ماضی میں کبھی بھی ایبولا کے کسی پھیلاؤ میں اتنی کم مدت میں اتنے زیادہ کیسز سامنے نہیں آئے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسز نے وائرس پر قابو پانے کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے مشرقی کانگو کے صوبے ایتوری کا دورہ کیا، جو اس وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔

جمہوریہ کانگو میں اب تک ایبولا کے ایک ہزار سے زائد مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ کم از کم 246 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی ایبولا کے نو تصدیق شدہ کیسز اور ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔

سنیچر کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں ڈاکٹر گونزالیز نے کہا کہ ’صوبہ ایتوری میں ایبولا کی وبا کے اعلان کے دو ہفتے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایبولا کی کسی بھی وبا میں اعلان کے اتنے کم عرصے بعد اتنی بڑی تعداد میں کیسز پہلے کبھی سامنے نہیں آئے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ زمینی سطح پر کام کرنے والی ان کی ٹیمیں ایسے حالات کا سامنا کر رہی ہیں جو وبا کے تیز رفتار پھیلاؤ کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا۔

ڈاکٹر گونزالیز کے مطابق ’حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کوئی بھی اس وبا کے اصل حجم اور شدت سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ روزانہ نئے مشتبہ کیسز سامنے آ رہے ہیں، جبکہ سیکڑوں نمونوں کی جانچ ابھی تک نہیں کی جا سکی ہے۔‘

ڈاکٹر گونزالیز نے مزید کہا کہ ’وبا پر قابو پانے کی کوششیں اور انسانی امداد کی فراہمی ’بڑی رکاوٹوں‘ کے باعث تاخیر کا شکار ہیں، جن میں سرحدوں اور ہوائی اڈوں کی بندش بھی شامل ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت متعدد بار خبردار کر چکا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں جاری مسلح تنازع بھی ایبولا وبا کے خلاف کارروائیوں کو شدید متاثر کر رہا ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔

Share this content: