راولپنڈی: آر او دفتر میں ہنگامہ، کشمیری رکن اسمبلی جاوید بٹ اور بیٹے تھانے منتقل

اسلام آباد/ کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں راولپنڈی سے مہاجر مقیم کشمیریوں کی نشست پر منتخب رکن اسمبلی اور سابق وزیر جاوید بٹ گزشتہ دنوں راولپنڈی میں آر او دفتر کے باہر پیش آنے والے ایک ناخوشگوار واقعے میں مبینہ تشدد کا نشانہ بن گئے۔

واقعے میں ان کے صاحبزادے خاور بٹ اور ایک اور بیٹے کے بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسلم لیگ (ن) کے متوقع امیدوار اسمبلی یاسین لون کے قریبی عزیز طارق عزیز لون اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ووٹر فہرستوں پر اعتراضات کے سلسلے میں آر او دفتر میں موجود تھے۔ اسی دوران جاوید بٹ اپنے بیٹے کے ساتھ دفتر پہنچے جہاں دونوں جانب تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جو بعد ازاں شدید کشیدگی، دھکم پیل اور ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جھگڑے کے دوران جاوید بٹ اور ان کے صاحبزادے خاور بٹ کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر پولیس کو طلب کیا گیا جس کے بعد جاوید بٹ، خاور بٹ اور ان کے ایک اور بیٹے کو تھانہ بنی راولپنڈی منتقل کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق انہیں تقریباً تین گھنٹے تک تھانے میں رکھا گیا، تاہم بعد ازاں بعض بااثر شخصیات کی مداخلت اور آئندہ محتاط رویہ اختیار کرنے کی یقین دہانی کے بعد رہا کر دیا گیا۔

دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چند روز قبل آر او دفتر میں ووٹر اندراج کے معاملے پر بھی تنازع سامنے آیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جاوید بٹ کی جانب سے سینکڑوں نئے ووٹرز کے اندراج کی کوشش کی گئی جس پر متعلقہ حکام اور مقامی کمیٹی نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے عمل روک دیا۔ تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کے مطابق اس صورتحال پر جاوید بٹ شدید برہم دکھائی دیے اور انہوں نے اپنی جماعتی قیادت سے رابطے کیے، تاہم مطلوبہ سیاسی حمایت نہ ملنے پر انہوں نے پارٹی قیادت کے بعض رہنماؤں کے حوالے سے سخت اور متنازع زبان استعمال کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے شکوہ کیا کہ “جس شخص نے آزاد کشمیر میں پارٹی کو سیاسی طاقت دی، آج اسی کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں۔”

سیاسی حلقوں میں اس واقعے کے بعد مختلف چہ مگوئیاں جاری ہیں جبکہ تاحال جاوید بٹ یا ان کی جماعت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Share this content: