پونچھ یونیورسٹی میوزیکل پروگرام پر تنقید کے بعد سماجی و تعلیمی حلقوں میں بحث

پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں وکشمیر ضلع راولاکوٹ کی پونچھ یونیورسٹی راولاکوٹ میں حالیہ میوزیکل پروگرام کے انعقاد پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید اور مخالفت سامنے آنے کے بعد تعلیمی و سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی۔

طلبہ، اساتذہ اور مختلف سماجی شخصیات نے اس پروگرام کو محض تفریح نہیں بلکہ آرٹ، ثقافت، اظہارِ رائے اور نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کا مثبت اظہار قرار دیا ہے۔

مقررین اور طلبہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام نے موسیقی، تھیٹر، ادب اور ثقافتی سرگرمیوں کو انسانی ترقی اور سماجی شعور کا لازمی حصہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق ترکی، ایران، ملائیشیا، قطر اور مصر سمیت متعدد مسلم ممالک کی جامعات میں آرٹ اور ثقافتی سرگرمیاں باقاعدہ تعلیمی ماحول کا حصہ ہیں، جہاں انہیں شخصیت سازی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

سماجی حلقوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مذہب آرٹ یا موسیقی کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تاریخ میں شاعری، خطاطی، نعت، قوالی، صوفی موسیقی اور فنِ تعمیر کی عظیم روایات موجود رہی ہیں، جبکہ برصغیر کی صوفی روایت نے محبت، رواداری اور انسان دوستی کو فروغ دیا۔

طلبہ رہنماؤں کے مطابق یونیورسٹیاں صرف ڈگریاں تقسیم کرنے کے مراکز نہیں بلکہ تحقیق، تنقیدی شعور، تخلیقی سوچ اور مثبت سماجی سرگرمیوں کی آماجگاہ ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تعلیمی اداروں میں فنونِ لطیفہ، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں پر قدغن لگائی گئی تو معاشرہ عدم برداشت اور فکری جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔

مختلف حلقوں نے یونیورسٹی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ تعلیمی ماحول کو انتہا پسندانہ سوچ اور تنگ نظری سے محفوظ بنائے اور طلبہ کو صحت مند علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے ہر فرد کا حق ہے، تاہم کسی کو اپنی محدود سوچ دوسروں پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سماجی و ادبی شخصیات نے اس بات پر زور دیا کہ آرٹ، موسیقی اور ثقافت کسی بھی قوم کی شناخت اور روح ہوتے ہیں، جبکہ فنکاروں اور تخلیق کاروں کی حوصلہ شکنی معاشرے کو فکری پسماندگی کی طرف دھکیلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راولاکوٹ جیسے خوبصورت اور ثقافتی خطے کو نفرت یا پابندیوں نہیں بلکہ علم، محبت، ثقافت اور تخلیقی آزادی کی ضرورت ہے۔

Share this content: