پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں مظفرآباد کے تھانہ سٹی پولیس نے گزشتہ روز ایک ایسے نوجوان کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے شادی سے انکار کرنے پر اُس لڑکی پر فائرنگ کر کے اسے قتل کرنے کی کوشش کی، جس سے اس کا رشتہ کیا جا رہا تھا۔ فائرنگ کے نتیجے میں لڑکی زخمی ہو گئی جسے شیخ زید ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
یہ واقعہ مظفرآباد تھانہ سٹی کی حدود میں گزشتہ روز، یعنی 12 مئی 2026 کو پیش آیا۔ واقعے کا مقدمہ 12 مئی 2026 کو تھانہ سٹی میں درج کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکی کی عمر تقریباً 14 سال ہے اور وہ جماعت نہم کی طالبہ ہے۔ مقدمہ متاثرہ لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
متاثرہ لڑکی کی والدہ کے مطابق اُن کا شوہر روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک مقیم ہے جبکہ وہ مظفرآباد کے نواحی علاقے سیٹھی باغ کی رہائشی ہیں۔ اُنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد سمیع ولد محمد مشتاق نامی نوجوان اس سے قبل بھی اُن کی بیٹی کا راستہ روکتا رہا اور اسے زبردستی شادی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔
متاثرہ لڑکی کی والدہ کے مطابق انہوں نے کئی بار نوجوان کو ایسی حرکات سے منع کیا اور اُس کے والدین کو بھی اس کے رویے سے آگاہ کیا، مگر وہ باز نہ آیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ 12 مئی کو محمد سمیع مشتعل ہو کر اُن کے گھر میں داخل ہوا، لڑکی کو لات ماری اور پھر پستول نکال کر قتل کی نیت سے فائرنگ کر دی۔ گولی لگنے سے لڑکی زخمی ہو کر گر پڑی جبکہ ملزم دھمکیاں دیتے ہوئے موقع سے فرار ہو گیا۔
Share this content:


