پاکستانی کشمیر کے "فورسز آف ڈارکنس” یا عوامی نمائندے؟

تحریر: ذوالفقار علی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جولائی میں عام انتخابات متوقع ہیں۔ یعنی وہی موسم جس میں اس خطے کے سیاست دانوں کے چہروں پر مصنوعی عاجزی، زبانوں پر جھوٹ، اور ہاتھوں میں ترقی کے خوابوں کی فہرستیں نمودار ہو جاتی ہیں۔ ویسے تو یہ لوگ پورا سال جھوٹ بولتے ہیں، لیکن الیکشن کے دنوں میں ان کے جھوٹ کی رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے اور معیار بھی۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہر امیدوار کے اندر اچانک ایک نیا “مسیحا” پیدا ہو جاتا ہے جو پانچ سال غائب رہنے کے بعد عوام کو یاد دلاتا ہے کہ وہ ان کا خادم ہے۔

وہی پرانی گرد آلود تقریریں، وہی بوسیدہ وعدے، وہی جعلی چوشحالی کے نعرے:
“ہم خوشحالی لائیں گے۔”
“ہم ترقیاتی کام کریں گے۔”
“ہم نوجوانوں کو روزگار دیں گے۔”
“ہم کشمیر کو ایشیا کا پیرس بنا دیں گے۔”

اور پھر یہی لوگ اقتدار ملتے ہی ایک دوسرے کے ساتھ حکومتیں بنانے کے لیے ایسے اکٹھے ہو جاتے ہیں جیسے الیکشن سے پہلے ایک دوسرے کو کرپٹ، غدار اور نااہل قرار دینے والے یہ لوگ دراصل برسوں سے ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے نہ ہوں۔ الیکشن کے دوران ایک دوسرے پر مڈ سلنگنگ، الزامات، کردار کشی اور گالم گلوچ، لیکن اقتدار کے بعد سب ایک ہی دسترخوان پر۔ کیونکہ نظریات، اصول اور عوام صرف جلسوں کی حد تک ہوتے ہیں، اصل چیز مفادات ہوتے ہیں اور ان مفادات کے تحفظ کے لیے یہ سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

اب ذرا اس خطے کی اصل حقیقت دیکھیے، جسے ہر الیکشن میں نعروں، جھنڈوں اور جذباتی تقریروں کے نیچے دفن کر دیا جاتا ہے۔

دہائیوں گزر گئیں، مگر اس خطے کے حکمران طبقے نے اپنے پیسے سے ایک سوئی تک نہیں خریدی۔ ایک سوئی بھی نہیں۔ وجہ بالکل واضح ہے: اس خطے کی اپنی آمدنی اتنی نہیں کہ یہ اپنے بھاری بھرکم انتظامی ڈھانچے، وزیروں، مشیروں، سرکاری گاڑیوں، پروٹوکول، تنخواہوں، الاونسز اور پنشن کا خرچہ خود اٹھا سکے۔ آزاد کشمیر مکمل طور پر پاکستان کے ٹیکس دہندگان کے رحم و کرم پر کھڑا ہے۔

یہاں آج جو بھی انفراسٹرکچر موجود ہے۔ یہ 2005 کے زلزلے کے بعد پاکستان کی سربراہی میں بین الاقوامی برادری نے تعمیر کیا، یا حکومت پاکستان نے اپنے پیسوں سےخود تعمیر کیا۔ اس پر کھربوں روپے خرچ کیے گئے۔

اس کے علاوہ پاکستان نے الگ سے کشمیر کی حکومتوں کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے کھربوں روپے دیے، لیکن وہ رقم زمین پر کم اور سیاست دانوں کے اکاؤنٹس، پلازوں، فارم ہاؤسز اور خاندانوں کی زندگیوں میں زیادہ نظر آئی۔

صرف 2005 سے اب تک پاکستان نے الگ سے کشمیر کی حکومتوں کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے تقریباً 370 ارب روپے دیے۔ 370 ارب روپے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ پیسہ کہاں ہے؟ کون سی عالمی معیار کی یونیورسٹیاں بنیں؟ کون سے صنعتی زون قائم ہوئے؟ کون سا جدید ہیلتھ سسٹم وجود میں آیا؟ کون سا معاشی انقلاب آیا؟ حقیقت یہ ہے کہ اس رقم کا بڑا حصہ کرپشن، کمیشن، جعلی منصوبوں اور سیاسی بندربانٹ کی نذر ہو گیا۔

2005 سے پہلے پاکستان نے کشمیر کی حکومتوں کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے جو پیسہ دیا، اس سے ایسے اسکول تعمیر کیے گئے جن میں نہ بلڈنگ کوڈ تھا، نہ معیار، نہ منصوبہ بندی۔ نتیجہ؟ زلزلہ آیا تو وہ اسکول بچوں کے لیے قبرستان ثابت ہوئے۔ 18000 معصوم بچے ملبے تلے دفن ہو گئے، اور جن لوگوں نے وہ ناقص عمارتیں بنائیں، وہ آج بھی سیاست کے بڑے نام بنے پھر رہے ہیں۔

زلزلے کے بعد اب تک جو الگ سے 370 ارب روپے ملے اس کے ایک بڑے حصے سے غیر معیاری یا غیر ضروری سڑکیں تعمیر کی گئیں جو آج بھی لوگوں کے لیے موت کے راستے بنی ہوئی ہیں۔ ہر حادثے کے بعد چند بیانات، چند تعزیتی ٹویٹس، اور پھر خاموشی۔ کیونکہ مرنے والے عوام ہوتے ہیں، حکمران نہیں۔ لیکن ان کا احستاب نہیں ہوتا کہ کنیشن اور کرپشن کے لیے یہ موت کے کنویں کیوں بنایے۔

اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ان سیاست دانوں کی تباہ کاریوں کی کہانی یہیں ختم ہو جاتی ہے تو وہ سخت غلط فہمی میں ہے۔

اس خطے کی آبادی تقریباً 27 لاکھ ہے، لیکن ان میں سے ساڑھے گیارہ لاکھ لوگ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر انحصار کرتے ہیں۔ 50 ہزار خاندان یعنی ڈھائی لاکھ افراد ایسے ہیں جو پروگرام میں رجسٹرڈ تو ہیں مگر ابھی تک امداد ملنا شروع نہیں ہوئی۔ 33 ہزار خاندان زکوٰۃ پر گزارا کر رہے ہیں۔ یہ ہے وہ “خوشحال کشمیر” جس کے نعرے ہر الیکشن میں لگائے جاتے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سوشل پروٹیکشن پروگرام کے لیے ایک لاکھ 20 ہزار خاندانوں، یعنی تقریباً 6 لاکھ افراد نے درخواستیں دیں، مگر پروگرام ابھی تک شروع نہیں ہو سکا۔ ان میں سے صرف 8 ہزار خاندان یعنی 40 ہزار افراد پہلے سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ تھے۔ باقی وہ لوگ تھے جو غربت، بے روزگاری اور معاشی تباہی کے نئے شکار بن چکے ہیں۔

یہی نہیں عوام کو سبسڈی والے اٹے کے نام پر غیر معیاری آتا فرام کیا جاتا ہے جس سے کیڑے نکلتے ہیں۔ ان کے وزیر کہتے ہیں کہ آٹے میں کیڑے نہیں ہیں بلکہ لوگوں کے دماغوں میں کیڑے ہیں۔ سبسڈی کے نام پر دیے جانے والے اٹے میں 14 سے 18 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔

یہ تمام اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ آج جن سیاست دانوں بہت سارے لوگ “فورسز آف ڈارکنس” کہتے ہیں، انہوں نے اس خطے کو کتنی گہری محرومیوں، ذلتوں اور miseries میں دھکیلا ہے۔

اس خطے میں سرکاری نوکری کے علاوہ معیشت کا کوئی وجود نہیں۔ نہ صنعت، نہ سرمایہ کاری، نہ ٹیکنالوجی، نہ پرائیویٹ سیکٹر۔ پہلے ہی اس بے کار اور پھولے ہوئے انتظامی سیٹ اپ میں ایک لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین موجود ہیں، جو آبادی کے تناسب سے 4 فیصد سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔ لیکن پھر بھی سیاسی بھرتیاں جاری ہیں، کیونکہ ہر الیکشن میں ووٹ خریدنے کا سب سے آسان طریقہ سرکاری نوکریاں بانٹنا ہے۔ اور اس پورے بوجھ کا خرچہ پاکستان کے ٹیکس دہندگان اٹھاتے ہیں۔

یہاں کا نوجوان روزگار کے لیے بیرون ملک جاتا ہے۔ کوئی دبئی کے خواب میں مرتا ہے، کوئی یونان کے راستے سمندر میں ڈوب جاتا ہے، کوئی انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں برباد ہو جاتا ہے۔ لیکن ان سیاست دانوں کے بچوں کو کبھی کشتیوں میں بیٹھ کر غیر قانونی سفر نہیں کرنا پڑتا۔ ان کے بچے لندن، اسلام آباد اور بیرون ملک یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں، جبکہ غریب کا بچہ سمندر میں لاش بن کر واپس آتا ہے۔

ان حکمرانوں نے صرف آزاد کشمیر میں ہی قبرستانوں میں اضافہ نہیں کیا، بلکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھی دہائیوں تک جھوٹ اور جذباتی نعروں کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو قبرستانوں تک پہنچایا۔ تقریباً 70 ہزار لوگ مارے گئے، نسلیں تباہ ہوئیں، خاندان بکھر گئے، لیکن ان سیاست دانوں کے محلات، پروٹوکول اور گاڑیاں بڑھتی رہیں۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو ایف سی ار دیا۔

اب ان سیاست دانوں کے پاس عوام کو بیچنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں بچا۔ نہ کارکردگی، نہ ترقی، نہ معیشت، نہ تعلیم، نہ صحت۔ اس لیے اب بیشتر سیاست دانوں کے پاس صرف ایک چیز بچی ہے اور وہ ہے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کے خلاف نفرت۔ یہی وہ آخری ہتھیار ہے جس سے یہ لوگ ووٹ لینے کی کوشش کریں گے۔

اور اس سب کے باوجود منظر دیکھیے:
کارکن پھول نچھاور کر رہے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل استقبال کر رہے ہیں۔
وزیراعظم پچاس گاڑیوں کے قافلے میں دورے کر رہے ہیں۔
پروٹوکول ایسے جیسے کوئی عالمی فاتح آیا ہو۔

اور اس پورے تماشے کا خرچہ؟ پاکستان کے غریب عوام۔

یہ لوگ الیکشن کے دوران اچانک عوام کے درمیان نمودار ہوتے ہیں، گلیوں میں گھومتے ہیں، ہاتھ ملاتے ہیں، بچوں کو گود میں اٹھاتے ہیں، اور پھر پانچ سال کے لیے غائب ہو جاتے ہیں۔

کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں رہتے ہی نہیں۔

ان کے گھر اسلام آباد میں ہیں۔
ان کے خاندان اسلام آباد میں ہیں۔
ان کے کاروبار اسلام آباد میں ہیں۔
ان کے بچے اسلام آباد یا بیرون ملک ہیں۔
یہ اس خطے کی حکومت کشمیر ہاوس اسلام اباد سے چلاتے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں صرف ان کے لیے ایک سیاسی کالونی ہے جہاں سے ووٹ، اقتدار اور پیسہ حاصل کیا جاتا ہے۔

اس لیے اب وقت آ چکا ہے کہ کشمیر کے تمام خطوں کے لوگ ان “فورسز آف ڈارکنس” سے نجات حاصل کریں۔ ورنہ یہ لوگ اس پورے خطے کو غربت، نفرت، بدعنوانی اور قبرستانوں میں مکمل طور پر تبدیل کر دیں گے۔

٭٭٭

Share this content: