تحریر: ذوالفقار علی
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے ہٹائے جانے سے پہلے ہی کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں واقع ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔ اہم سرکاری ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں ہی کشمیر ہاؤس میں موجود تین منزلہ سرکاری گیسٹ ہاؤس کے دوسرے فلور کے چار کمروں کو وزیراعظم ہاؤس کی “اینیکسی” قرار دے دیا تھا۔ اس بارے میں ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا جس کو خفیہ رکھا گیا۔ اس نوٹیفکیشن کی کاپی صرف محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن اور اُس وقت کے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کے پاس موجود ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بغیر کسی ضرورت کے گیسٹ ہاؤس کے چار کمروں کو کشمیر ہاؤس کی اینیکسی قرار دینے کا مقصد یہ تھا کہ جب اس وقت کے وزیراعظم اپنے عہدے سے ہٹ جائیں گے تو وہ ان کمروں پر قبضہ کرسکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کو خفیہ رکھا گیا۔
البتہ حال ہی میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران سابق وزیراعظم نے یہ تسلیم کیا کہ وہ کشمیر ہاؤس میں وزیراعظم ہاؤس کی اینیکسی میں رہائش پذیر ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ کشمیر ہاؤس کے لیے مزید کمرے درکار ہیں جس کی وجہ سے اس گیسٹ ہاؤس کے چار کمروں کو اینیکسی قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے لیے اینیکسی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نے پہلے ہی یہ منصوبہ بندی کر رکھی تھی کہ وزارتِ عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد وہ کشمیر ہاؤس کے گیسٹ ہاؤس پر قبضہ کریں گے۔
17 نومبر 2025 کو ان کی مخلوط حکومت میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے انہیں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹایا جس کے بعد مسلم لیگ ن کی حمایت سے فیصل ممتاز راٹھور کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ سبکدوش ہونے والے وزیراعظم کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں واقع وزیراعظم ہاؤس سے اسی گیسٹ ہاؤس کے دوسرے فلور پر منتقل ہوگئے اور تاحال وہیں مقیم ہیں۔ ابتدا میں گیسٹ ہاؤس کا بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور اور فرسٹ فلور بھی ان کے زیرِ استعمال رہا۔ فرسٹ فلور اسپیکر چیمبر کے لیے مختص ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم 20 اپریل کو وزیراعظم تعینات ہونے سے پہلے آزاد کشمیر اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ جب وہ اسپیکر تھے تو انہوں نے اسی گیسٹ ہاؤس کے فرسٹ فلور کو اسپیکر چیمبر قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں موجودہ اسپیکر نے اسپیکر چیمبر واپس لے لیا جہاں بیرونِ ملک سے آنے والے ان کے مہمان ٹھہرتے ہیں۔ تاہم بیسمنٹ کے کمرے اب بھی استعمال نہیں ہو پاتے کیونکہ سابق وزیراعظم اسی گیسٹ ہاؤس میں رہائش پذیر ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق وزیراعظم موجودہ وزیراعظم کی مکمل حمایت کے ساتھ اس گیسٹ ہاؤس کے کمرے استعمال کر رہے ہیں اور انہیں وہاں سے منتقل ہونے کے لیے نہیں کہا جا رہا۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاست میں باہمی مفادات کے تحفظ کی روایت اس معاملے میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 53 رکنی اسمبلی میں اب تک کسی رکن نے اس معاملے پر بات نہیں کی۔
سابق وزرائے اعظم کی طرف سے گیسٹ ہاؤسز، سرکٹ ہاؤسز اور ریسٹ ہاؤسز پر قبضے کی راہ کیسے ہموار کی گئی؟
30 نومبر 2023 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی نے خاموشی سے سابق وزرائے اعظم کے لیے اضافی مراعات کی منظوری دی تھی جس کے تحت سابق وزرائے اعظم پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں واقع سرکاری گیسٹ ہاؤسز، سرکٹ ہاؤسز اور ریسٹ ہاؤسز میں مفت قیام کر سکتے ہیں۔ اس نئے قانون نے سابق وزرائے اعظم کی طرف سے سرکاری گیسٹ ہاؤسز، سرکٹ ہاؤسز اور ریسٹ ہاؤسز پر قبضے کی راہ ہموار کی گئی۔
اس قانون کے مطابق سابق وزرائے اعظم کو 3000 سی سی گاڑی استعمال کرنے اور سیکیورٹی کے لیے پانچ پولیس اہلکار اور گریڈ 16 کے اسسٹنٹ رکھنے کی اجازت بھی دی گئی۔ اس سے پہلے سابق وزرائے اعظم صرف 1600 سے 1800 سی سی گاڑی استعمال کر سکتے تھے جبکہ ان کی حفاظت کے لیے صرف ایک پولیس اہلکار اور گریڈ 11 کے اسسٹنٹ رکھنے کی اجازت تھی۔ سابق وزرائے اعظم کو پہلے سے ہی ماہانہ چار سو لیٹر پٹرول اور ماہانہ 50 ہزار گھر کا کرایہ بھی ملتا ہے۔
اس نئے قانون کا مقصد نہ صرف اضافی مراعات حاصل کی گئیں بلکہ سرکاری گیسٹ ہاؤسز، سرکٹ ہاؤسز اور ریسٹ ہاؤسز پر سابق وزرائے اعظم کی طرف سے قبضے کو جائز قرار دیا گیا۔ سابق وزرائے اعظم کے لیے اضافی مراعات منظور کرنے کے لیے تمام اراکین اسمبلی اکٹھے تھے۔
سابق وزیراعظم نے مظفرآباد میں اسپیکر ہاؤس بھی اپنے استعمال میں رکھا ہے۔ یہ رہائش گاہ اُس وقت سے ان کے زیرِ استعمال ہے جب وہ اسپیکر تعینات ہوئے تھے۔ وزیراعظم بننے کے بعد بھی اسپیکر ہاؤس ان کے استعمال میں رہا، اور وزارتِ عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد بھی صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔
موجودہ اسپیکر کا ذاتی گھر مظفرآباد میں ہے، اور سابق وزیراعظم ان کی مرضی سے اسپیکر ہاؤس استعمال کر رہے ہیں۔ یوں اسمبلی میں موجود 53 اراکین ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ دیتے ہیں۔
Share this content:


