15 مئی 2026 کو فلسطینی عوام نکبہ کے 78 برس مکمل ہونے پر دنیا بھر میں یومِ نکبہ منا رہے ہیں۔ فلسطینی اس دن کو “قیامتِ کبریٰ” یا “تباہی کا دن” بھی کہتے ہیں، کیونکہ 1948 میں لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں، زمینوں اور آبائی علاقوں سے محروم ہو گئے تھے۔
تاریخی طور پر 14 مئی 1948 کو Israel نے اپنے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کے اگلے ہی روز عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ تقریباً 15 ماہ جاری رہنے والی اس جنگ کے دوران ساڑھے سات لاکھ سے زائد فلسطینی بے دخل ہو کر مختلف علاقوں اور ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے بیشتر آج تک اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکے کیونکہ ان کے علاقے اسرائیلی کنٹرول میں چلے گئے تھے۔
فلسطینی اسی اجتماعی بے دخلی اور تباہی کو “نکبہ” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ہر سال 15 مئی کو فلسطینی دنیا بھر میں ریلیاں، مظاہرے اور تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ اس دن گھروں کی پرانی چابیاں بطور علامت اٹھائی جاتی ہیں، جو ان گھروں کی یاد دلاتی ہیں جہاں سے فلسطینی خاندانوں کو 1948 میں نکالا گیا تھا۔
اس سال یومِ نکبہ ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب Gaza Strip ایک بار پھر شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔ غزہ میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، بنیادی سہولیات تباہ ہو چکی ہیں اور بیشتر علاقے اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے متاثر ہیں۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ 1948 کی نکبہ کی تاریخ آج بھی غزہ میں دہرائی جا رہی ہے، جہاں لوگ مسلسل نقل مکانی، خوف اور تباہی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
Share this content:


