پلندری میں ایکشن کمیٹی کا احتجاجی دھرنا، انتظامیہ پر جانبداری کے الزامات

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلندری کے علاقے دیوان گوراہ میں گزشتہ روز پیش آنے والے تصادم کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

انتظامیہ نے جمعیت علمائے اسلام جموں کشمیر کی درخواست پر ایف آئی آر درج کرتے ہوئے ایکشن کمیٹی کے 6 افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ دوسری جانب دیوان گوراہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے درج کروائی گئی درخواست پر تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا، جس پر عوامی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

اسی معاملے کے خلاف پلندری ایکشن کمیٹی نے 16 مئی کو اجلاس منعقد کیا اور احتجاج کی کال دی۔ تاہم انتظامیہ نے احتجاج روکنے کے لیے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی۔ اس کے باوجود ایکشن کمیٹی کے کارکنان سردار امان اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں مقبول بٹ شہید چوک پلندری میں احتجاجی دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی شرکاء کا مؤقف ہے کہ گزشتہ روز پرامن احتجاج کرنے والے افراد پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقدمہ ان افراد کے خلاف درج ہونا چاہیے جنہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔

دیوان گوراہ میں سیاسی رہنماؤں کو روک کر سوال جواب کرنے کا عمل اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر سامنے آ چکا ہے۔ اس سے پہلے سردار محمد حسین، ڈاکٹر نجیب نقی اور بعد ازاں سردار امان کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آئے تھے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کسی سیاسی رہنما کو عوامی سطح پر روک کر بازپرس کرنا سیاسی اخلاقیات کے اعتبار سے متنازع عمل تصور کیا جاتا ہے، تاہم اس کے جواب میں تشدد اور طاقت کا استعمال مزید سنگین صورتحال پیدا کرتا ہے۔

سردار امان کے معاملے میں مقامی سطح پر پنچایت بھی بٹھائی گئی تھی اور بعد ازاں اس سے متعلق آڈیو لیک بھی منظرِ عام پر آئی تھی۔

مبصرین کے مطابق اگرچہ یہ طریقہ کار غیر سیاسی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے جواب میں مبینہ مسلح حملے اور گاڑی چڑھانے جیسے اقدامات غیر قانونی زمرے میں آتے ہیں۔

واقعے کے بعد جمعیت علمائے اسلام جموں کشمیر کے سربراہ مولانا سعید یوسف اور ان کے کارکنوں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے کارکنوں کو مشتعل کیا اور مظاہرین کے خلاف سخت ردِعمل کی حوصلہ افزائی کی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود معاملات کو مذاکرات اور سیاسی رواداری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تھا۔

دوسری جانب جے یو آئی کے حلقے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ ان کے قافلے کو روکنے اور سیاسی سرگرمی میں مداخلت کی گئی، جس کے باعث صورتحال کشیدہ ہوئی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعات پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ابھرتی عوامی تحریکوں، انتخابی سیاست اور ریاستی ڈھانچے کے درمیان بڑھتے تناؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی تحریک کی قیادت موجودہ نظام کو تبدیل کرنے کی بات کرتی ہے تو اسے واضح متبادل سیاسی و معاشی پروگرام بھی پیش کرنا ہوگا، ورنہ محض حکمران طبقات کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ معاشرتی انتشار اور ذاتی دشمنیوں کو جنم دے سکتا ہے۔

تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ انتخابات کے حوالے سے ابہام اور انتخابی عمل میں شرکت کرنے والوں کو تحریک مخالف قرار دینے جیسے بیانیے عام کارکنوں اور عوام کو براہِ راست سیاسی مداخلت کی طرف دھکیلتے ہیں، جس کے نتیجے میں انتخابی مہمات کو روکنے اور جلسوں میں رکاوٹ ڈالنے جیسے اقدامات کو جواز ملتا ہے اور سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو جاتا ہے۔

Share this content: