اقوامِ متحدہ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک تقریباً 30 لاکھ مزید افغان شہریوں کو اپنے وطن واپس جانا پڑ سکتا ہے، جن میں نصف سے زائد تعداد خواتین اور بچوں پر مشتمل ہو گی۔
رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر یہ واپسی پاکستان اور ایران سے متوقع ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک تقریباً 59 لاکھ افغان پناہ گزین افغانستان واپس جا چکے ہیں، جو ملک کی مجموعی آبادی کا 10 سے 12 فیصد بنتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واپس جانے والوں کی اکثریت کو پاکستان اور ایران سے واپس بھیجا گیا یا وہ دباؤ کے باعث وطن لوٹے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران پاکستان اور ایران سے تقریباً 6 لاکھ افغان شہری افغانستان واپس گئے۔
اقوامِ متحدہ نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ آٹھ ماہ میں ایران سے مزید 17 لاکھ جبکہ پاکستان سے تقریباً 11 لاکھ افغان شہریوں کی واپسی متوقع ہے۔
رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ واپس جانے والے افراد میں بڑی تعداد ایسے افغان باشندوں کی ہے جو پاکستان یا ایران میں پیدا ہوئے، وہیں پلے بڑھے اور جن کی زندگی کا بیشتر حصہ انہی ممالک میں گزرا۔ کئی خاندانوں کے لیے افغانستان واپسی ایک غیر یقینی صورتحال بن چکی ہے کیونکہ وہاں انہیں روزگار، رہائش، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں افغان شہریوں کی واپسی افغانستان کے پہلے سے کمزور معاشی اور انسانی بحران پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ ادارے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اور مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک دونوں کے لیے انسانی امداد اور مالی تعاون میں اضافہ کیا جائے تاکہ ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔
Share this content:


