کانگو میں ایبولا وائرس سے متاثرہ 131 افراد ہلاک

افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ سے اب تک کم از ک131 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 513 سے زیادہ مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

براعظم افریقہ میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں صحت کے حکام نے میڈیابتایا کہ ایبولا سے بچاؤ کی چونکہ کوئی منظور شدہ ادویات یا ویکسین دستیاب نہیں، اس لیے لوگوں کو صحتِ عامہ کے اقدامات پر عمل کرنا چاہیے۔

ان اقدامات میں ایبولا کے متاثرین کی تدفین کے دوران احتیاطی تدابیر بھی شامل ہیں۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق یوگنڈا میں بھی ایبولا سے متاثرہ دو تصدیق شدہ کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی ہے۔

ایبولا کی موجودہ قسم کا پھیلاؤ بُنڈی بُگیو وائرس کے باعث ہو رہا ہے جسے عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی ہنگامی صورتحال بھی قرار دیا ہے۔

جمہوریہ کانگو میں ایک امریکی ڈاکٹر بھی ان افراد میں شامل ہیں جن میں اس مرض کی تصدیق ہوئی ہے، یہ بات اس طبی مشنری گروپ اور سی ڈی سی نے کہی ہے جس کے ساتھ وہ کام کر رہے تھے۔ اب انھیں علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا جائے گا۔

بتایا جارہاہے کہ جمہوریہ کانگو میں اس وبا کے دوران کم از کم چھ امریکی ایبولا وائرس کے رابطے میں آئے ہیں۔

سی ڈی سی نے کہا کہ وہ ’براہِ راست متاثر ہونے والے ان امریکیوں کے محفوظ انخلا میں معاونت کر رہا ہے لیکن یہ تصدیق نہیں کی کہ اس میں کتنے افراد اس میں شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے جمہوریہ کانگو کے لیے سطح چار کی سفری وارننگ بھی جاری کر دی ہے، جو اس کی سب سے سخت سطح ہے، جس میں وہاں سفر سے گریز کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی سطح پر صحتِ عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے۔

تاہم عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دینے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کووڈ جیسی وبا کے ابتدائی مرحلے میں ہیں

اس وبا سے نمٹنا مشکل ہے کیونکہ اس میں ایک نایاب قسم شامل ہے جس کے لیے کوئی ویکسین موجود نہیں ہے اور کیسز ایسے علاقے میں سامنے آئے ہیں جو تنازع سے متاثر ہے۔

یاد رہے کہ ایبولا ایک نایاب مگر مہلک بیماری ہے جو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔

ایبولا وائرس عموماً جانوروں کو متاثر کرتے ہیں، خاص طور پر پھل کھانے والی چمگادڑوں کو لیکن انسانوں میں وبا اس وقت شروع ہو سکتی ہے جب لوگ متاثرہ جانوروں کو کھاتے یا سنبھالتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس کی علامات ظاہر ہونے میں دو سے 21 دن لگتے ہیں۔ یہ اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور فلو کی طرح شروع ہوتی ہیں، جن میں بخار، سر درد اور تھکن شامل ہیں۔

جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، قے اور اسہال شروع ہو جاتے ہیں اور یہ اعضا کی ناکامی کا باعث بن سکتی ہے جس سے کچھ مریضوں میں اندرونی یا بیرونی خون کا اخراج بھی ہو سکتا ہے۔

یہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں متاثرہ جسمانی رطوبتوں جیسے خون یا قے کے ذریعے پھیلتا ہے۔

Share this content: