سائوتھ ایشیا انڈیکس کی جانب سے 19 مئی 2026 کو جاری ایک دعوے نے پاکستان میں ممکنہ آئینی و انتظامی تبدیلیوں سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
میڈیا گروپ نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا کہ پاکستان کی وفاقی حکومت ملک میں موجودہ صوبائی حدود کی ازسرِ نو تشکیل اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے ایک قانونی پیکیج پر کام کر رہی ہے، جسے متوقع 28ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ منصوبے میں ملک کے مختلف حصوں کو نئے انتظامی اور وفاقی ڈھانچے میں تقسیم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
دعوے کے مطابق وفاقی علاقوں میں اسلام آباد،گلگت بلتستان،آزادجموں وکشمیر، کراچی اور گوادر کو شامل کیے جانے کی بات کی گئی ہے۔
اسی طرح پنجاب کو مختلف حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے مغربی پنجاب، جنوبی پنجاب، بہاولپور اور پوٹھوہار کے نام سامنے آئے ہیں۔ سندھ کے حوالے سے شہری سندھ، دیہی سندھ اور مہران کے مجوزہ یونٹس کا ذکر کیا گیا، جبکہ بلوچستان میں بلوچستان اور مکران کے نام شامل کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں خیبر پختونخوا کے لیے کے پی کے، جنوبی کے پی کے، ہزارہ اور کوہستان کے مجوزہ انتظامی ڈھانچوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سیاسی اور آئینی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ تاہم وفاقی حکومت یا متعلقہ آئینی اداروں کی جانب سے تاحال اس نوعیت کے کسی باضابطہ منصوبے یا آئینی مسودے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے حالیہ دنوں میںآزاد جموں و کشمیر اورگلگت بلتستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں خطوں کی جانب سے قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ میں شامل کیے جانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
ان کے بیان کو بھی حالیہ آئینی و انتظامی مباحث کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
Share this content:


