کشمیر کے وزیرِاعظم نے 6 ماہ دوران سیکرٹ فنڈ کی مد میں 10 کروڑ روپے خرچ کر دیے

رپورٹ : ذوالفقار علی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیرِاعظم نے صرف چھ ماہ کے عرصے میں سیکرٹ فنڈ کی مد میں 10 کروڑ روپے خرچ کر دیے۔

مالی سال 2025-2026 کے لیے سیکرٹ فنڈ کی مد میں 5 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، لیکن صرف چھ ماہ کے عرصے میں اس مد میں ساڑھے 12 کروڑ روپے واگزار کیے گئے، جن میں سے 10 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

سیکرٹ فنڈ کا آڈٹ نہیں ہوتا اور نہ ہی وزیرِاعظم اس بات کے جواب دہ ہوتے ہیں کہ یہ رقم کہاں استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ اس خطے کے وزرائے اعظم اس فنڈ کو مبینہ طور پر رشوت اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

فیصل ممتاز راٹھور اس خطے کے دوسرے وزیرِاعظم ہیں جنہوں نے مختصر عرصے میں سیکرٹ فنڈ کی مد میں مختص بجٹ سے تقریباً ڈیڑھ سو فیصد زائد رقم استعمال کی۔

اس سے قبل سابق وزیرِاعظم تنویر الیاس خان نے مالی سال 2022-2023 میں ایک سال سے بھی کم عرصے میں 62 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے تھے، حالانکہ اس مالی سال میں اس مد میں صرف 2 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ یعنی انہوں نے مقررہ بجٹ سے 60 کروڑ 50 لاکھ روپے زائد استعمال کیے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمبلی نے تاحال ان زائد اخراجات کی منظوری نہیں دی اور نہ ہی سابق وزیرِاعظم نے یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی۔ اس کے باوجود سابق وزیرِاعظم کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس خطے کے وزرائے اعظم کا آخر ایسا کون سا کام ہے جو خفیہ ہو۔ حکومت کا بنیادی کام عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ایسی صورت میں وزیرِاعظم سیکریٹریٹ کے بجٹ میں سیکرٹ فنڈ کی مد کیوں رکھی گئی ہے؟

واضح رہے کہ سبکدوش ہونے والے وزیرِاعظم نے مالی سال 2023-2024 میں سیکرٹ فنڈ کی رقم 2 کروڑ روپے سے بڑھا کر 5 کروڑ روپے کر دی تھی۔

Share this content: