مظفرآباد میں کالج پرنسپل فائرنگ سے ہلاک، ماضی میں عسکریت پسندی سے تعلق کے دعوے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نواحی علاقے گوجرہ میں دن دہاڑے ٹارگٹ کلنگ کا ایک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں نامعلوم مسلح شخص کی فائرنگ سے ایک مقامی نجی کالج کے پرنسپل حمزہ برہان ہلاک ہو گئے۔

واقعہ تھانہ صدر کی حدود میں پیش آیا، تاہم پولیس کی جانب سے تاحال واقعے کی مکمل ایف آئی آر منظر عام پر نہیں لائی گئی جبکہ سرکاری سطح پر بھی مقتول کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔

عینی شاہدین کے مطابق حمزہ برہان اپنے کالج میں موجود تھے اور صفائی عملے کو ہدایات دے رہے تھے کہ ادارے کو صاف رکھا جائے کیونکہ مہمانوں کی آمد متوقع ہے۔ اسی دوران کالج گیٹ پر دستک ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ گیٹ پر آنے والے شخص نے حمزہ برہان کو باہر بلایا اور قریب آتے ہی ان پر فائرنگ کر دی۔

فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع دوپہر 12 بج کر 10 منٹ پر موصول ہوئی، تاہم حملہ آور کی شناخت یا گرفتاری سے متعلق کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

تفتیشی حکام کی جانب سے بھی واقعے کے محرکات پر فی الحال خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

دوسری جانب مختلف ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مقتول حمزہ برہان کا تعلق کالعدم تنظیم “البدر” سے رہا ہے اور وہ ماضی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکری سرگرمیوں کا حصہ رہ چکے تھے۔

بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حمزہ برہان بھارتی سکیورٹی اداروں کو مختلف مقدمات میں مطلوب تھے اور ان پر کروڑوں روپے انعام بھی مقرر تھا۔ تاہم ان دعوؤں کی کسی سرکاری ادارے نے آزادانہ تصدیق نہیں کی۔

اطلاعات کے مطابق مقتول کا تعلق بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے تھا۔ واقعے نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سابق عسکریت پسندوں یا متنازع شخصیات پر حملوں کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

اس سے قبل سال 2023 میں پونچھ میں بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ پیش آیا تھا، جہاں نماز فجر کے وقت ایک مسجد میں فائرنگ کر کے محمد ریاض نامی شخص کو قتل کر دیا گیا تھا، جو ابو قاسم کشمیری کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ان کا تعلق بھی بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ سے تھا۔

خبر رساں ادارے Reuters کی ایک رپورٹ کے مطابق محمد ریاض ماضی میں کشمیری عسکریت پسند رہ چکے تھے جبکہ ان کے والد اور ایک بھائی بھی ماضی میں ہلاک ہو چکے تھےیہ پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی تقریبا چھ ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعہ خطے میں سکیورٹی صورتحال، سرحد پار کشیدگی اور ماضی میں عسکری سرگرمیوں سے وابستہ افراد کی موجودگی سے متعلق نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کشمیر سے متعلق سکیورٹی اور انٹیلی جنس معاملات پہلے ہی حساس نوعیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔

Share this content: