انڈیا کے دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے پوچھا گیا کہ امریکہ، ایران تنازع میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، کیا انڈیا نے اس پر کسی تشویش کا اظہار کیا۔
مارکو روبیو کا جواب تھا: ’انڈیا ہمیشہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کی سر زمین سے مسلح دہشت گرد گروہ کام کر رہے ہیں جو انڈیا کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اس پر فکر مند رہتے ہیں۔‘
تاہم، امریکی وزیر خارجہ کے مطابق: ’جہاں تک ایران کے معاملے میں ثالث اور سہولت کار کے طور پر پاکستان کے کردار کی بات ہے، یہ موضوع کبھی سامنے نہیں آیا۔‘
مارکو روبیو کا کہنا تھا: ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس پر اعتراض کریں گے۔ پاکستان کے ساتھ ان کا مسئلہ مختلف ہے۔‘
انڈیا کے دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے پوچھا گیا کہ کیا ایران پر کوئی نئی خبر ہے؟
امریکی وزیر خارجہ کا جواب تھا: ’اس پر ابھی کام چل رہا ہے۔‘
صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ہمارے پاس ایک خاصی مضبوط تجویز ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق اس تجویز کے خد و خال یہ ہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے اور وقت کا تعین کر کے جوہری امور پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔
مارکو روبیو نے امید ظاہر کی کہ ’ہم اسے ممکن بنا لیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس تجویز کو خلیجی ممالک اور عالمی سطح پر بھرپور حمایت حاصل ہے۔
مارکو روبیو کے مطابق: ’جس ملک سے ہم نے بات کی، وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ نہ صرف معقول ہے بلکہ دنیا کے لیے درست اقدام ہے۔‘
ان سے پوچھا گیا کہ پھر تاخیر کس بات کی ہے؟ مارکو روبیو نے جواب دیا کہ ایران کا نظام جواب دینے میں وقت لیتا ہے۔
انھوں نے کہا: ’یا تو ہم ایک اچھا معاہدہ کریں گے یا پھر اس معاملے سے کسی اور طرح نمٹیں گے۔‘
سوال ہوا کہ کیا لبنان بھی اس معاہدے کا حصہ ہو گا؟
اس پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’لبنان پر الگ سے کام ہو رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جب تک لبنان میں مسلح حزب اللہ کا وجود ہے، تب تک امن کا حصول مشکل ہو گا۔
Share this content:


