بلوچستان میں چاغی شہر پر بلوچ آزادی پسندوں کا کنٹرول ، تھانہ و سرکاری عمارات نذرآتش

بلوچستان کے علاقے چاغی سے اطلاعات ہیں کہ شہر تاحال بلوچ آزادی پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔چاغی، جہاں ریکوڈک کا عالمی شہرت یافتہ تانبے اور سونے کا منصوبہ واقع ہے، حالیہ برسوں میں بھی سکیورٹی سے متعلق واقعات کا مرکز رہا ہے۔

چاغی شہر پر بلوچ آزادی پسندوں کا کنٹرول گذشتہ 5 گھنٹوں سے برقرار ہے ۔

یاد رہے کہ اسی شہر میں پاکستان نے ایٹمی دھماکا کرکے خود کودنیا میں ایک ایٹمی پاور کے طور پر منوایا تھا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے آج بروزجمعرات کو صبح دس بجے سرمچاروں نے پورے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے ۔ پولیس اسٹیشنز اور دیگر سرکاری دفاتر پر قبضہ کرکے متعدد کو نذر آتش کردیا گیا ہے جبکہ سرکاری اسلحات کی بڑی کھیپ قبضے میں لے لی گئی ہے ۔

ذرائع کے مطابق سرمچارپورے شہر میں پھیل گئے ہیں ۔ شاہراہوں اور اہم سرکاری عمارات ان کے قبضے میں ہیں ۔ کئی پولیس اہلکاروں کی بھی حراست میں لیا گیا ہے ۔

اطلاعات ہیں کہ پاکستانی فوج نے سرمچاروں کی کنٹرول اور شہر کامحاصرہ توڑنے کے لئے پیش قدمی کی لیکن سرمچاروں کی بھاری مزاحمت پر وہ پیچھے ہٹے اور واپس چلے گئے جبکہ فوج کی جانب سے ڈرون کے ذریعے سرمچاروں کی نگرانی اور انہیں نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں لیکن ڈرون کی بھی نشانہ بناکر ناکارہ بنادیا گیا ہے ۔

مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بینکوں، لیویز پوسٹوں اور پولیس اسٹیشنوں سے سرکاری ہتھیار اور آلات ضبط کر لیے گئے، جس کے بعد کئی سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔

مقامی ذرائع مزید بتاتے ہیں کہ شہر کے تمام اہم داخلی اور خارجی راستے بلاک کر دیے گئے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایک پولیس اسٹیشن کا کنٹرول سنبھالنے اور سرکاری ہتھیار ضبط کرنے کے بعد عمارت کو آگ لگا دی گئی۔

انہی ذرائع کے مطابق، حملہ آور اب بھی شہر میں موجود ہیں۔ اب تک حکام کی جانب سے کوئی سرکاری تصدیق یا بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ذرائع نے سنگر نیوز کو بتایا کہ سرمچاروں کی بڑی تعداد شہر میں موجود ہے ، شاہراہوں پر اسنیپ چیکنگ کر رہے ہیں۔ اور شہر کے گلی گلی اور نکڑ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع بتاتے ہیں وہ بھاری جدید اسلحہ سے لیس ہیں جبکہ انہیں مکمل عوامی حمایت بھی حاصل ہے ۔ اور وہ آزادانہ طور پر شہر بھر میں نقل حرکت کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلح افراد شہر بھر میں پھیل چکے ہیں اور شہر کا مکمل کنٹرول ان کے ہاتھ میں ہے ۔ ویڈیو میں گاڑیوں کی اسنیپ چیکنگ کی جارہی ہے ۔

رواں مہینے بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی کارروائیوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ میجر اور انتہائی مہلک حملے رپورٹ ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں ۔ جس کی تصدیق گذشتہ روز بدھ کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف تین دنوں میں بیلہ، زیارت اور ہنہ اوڑک میں تین بڑے مسلح حملوں میں 38 اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں ۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال 30 نومبر کو ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں مسلح بلوچ آزادی پسندوں نے پاکستانی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرکے اندر داخل ہوئے۔ سرمچاروں نے سیندک اور ریکوڈک میں گولڈ اور کاپر کی کان کنی کے منصوبوں سے منسلک غیر ملکی ملازمین، عملہ اور انجینئرز کی دفاتر اور رہائش کیلئے کیمپ کے وسط میں قائم کمپاؤنڈ پر قبضہ کیاتھا۔

بعدا زاں مذکورہ حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف) نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اس کے خصوصی دستے "سدّو آپریشنل بٹالین (سوب)” کے سرمچاروں نے سرانجام دیا تھا۔ سوب کے نوکنڈی حملے میں سیندک و ریکوڈک پراجیکٹس کے غیر ملکی ملازمین سمیت 76 فوجی اہلکار ہلاک اور 6 سرمچار شہید ہوئے تھے۔

تاہم اب تک اس کارروائی کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے ۔

Share this content: