ایران میں چھ روز اور پانچ شہروں پر محیط عوامی سوگ اور آخری رسومات کے سلسلے کا آج آخری دن ہے، جبکہ اس دوران پڑوسی ملک عراق میں بھی تقریبات منعقد کی گئیں۔
یہ ایران کی نئی قیادت کی جانب سے اتحاد اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش تھی اور اس بات کو اجاگر کرنے کی بھی کہ جنگ کے آغاز میں قتل کیے گئے ان کے رہبر اعلیٰ کی اہمیت صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ وسیع شیعہ مسلم دنیا تک پھیلی ہوئی ہے۔
ہر مقام پر بڑے اور جذباتی ہجوم کے باعث جنازے کا جلوس سست روی کا شکار رہا، اور آج بھی ایران کے مقدس ترین شہر مشہد، جو آیت اللہ خامنہ ای کا آبائی شہر بھی ہے، یہی منظر دیکھنے میں آیا۔
ایران کو امید تھی کہ گذشتہ ماہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت ان تقریبات کو جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھے گی، لیکن نازک جنگ بندی اور ایک ایسی مبہم مفاہمت، جس کی دونوں فریق الگ الگ تشریح کرتے ہیں، ابتدا ہی سے خطرات اپنے ساتھ لیے ہوئے تھی۔
اب ایران اور پورا خطہ بظاہر ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی کیفیت میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں وقفے وقفے سے فائرنگ کے تبادلے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور ایران کے جوہری پروگرام جیسے اہم معاملات پر مذاکرات جاری رکھنے کی کوششیں بھی ہوتی رہیں گی۔ جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی دنیا کے دیگر خطوں کی جنگ بندیوں سے مختلف نوعیت رکھتی ہے۔
Share this content:


