کشمیری عوام کا وزیراعظم پاکستان کو خط: مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو ہم اپنی جانیں قربان کرینگے لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے آزاد جموں کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری سنگین صورتحال، عوامی احتجاج اور حکومتی کریک ڈاؤن کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو ایک باضابطہ مکتوب ارسال کیا ہے۔

خط میں ایکشن کمیٹی نے ریاست میں غذائی و ادویات کی ناکہ بندی، انٹرنیٹ کی بندش اور مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، اپنے بنیادی حقوق اور ماضی میں طے پانے والے معاہدوں پر عملدرآمد کے لیے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ ایک ماہ سے سراپا احتجاج ہے۔مظاہرین کے خلاف پاکستانی فورسز کی کریک ڈائون اور فائرنگ سے 28 سے زائد افراد ہلاک،سینکڑوں گرفتار اور جبری لاپتہ کئے گئے ہیں۔ ریاست بھر میں گزشتہ ایک ماہ سے مکمل شٹر ڈاؤن، پہیہ جام اور لاک ڈاؤن ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں عوام سڑکوں پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

خط کے متن کے مطابق، پاکستانی فورسز کی جانب سے دھرنوں پر کریک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ کشمیر کا مکمل محاصرہ کیا گیا ہے، جس کے باعث گزشتہ ایک ماہ سے خوراک اور ادویات کی ترسیل مکمل معطل ہے۔ اس غذائی ناکہ بندی کے نتیجے میں ریاست بھر میں خوراک اور اشیاءِ خوردونوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، یہاں تک کہ بھوک اور پیاس کی وجہ سے مویشی اور جانور مرنا شروع ہو گئے ہیں۔

ایکشن کمیٹی کے مطابق، حکومتی فورسز کی جانب سے نہتے مظاہرین پر براہِ راست اسٹریٹ فائرنگ اور لاٹھی چارج کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے۔ راولا کوٹ، کوٹلی، میرپور اور دیگر شہروں میں ہونے والے ان پرتشدد واقعات کے نتیجے میں اب تک خواتین اور 3 سالہ بچی سمیت 28 سے زائد افراد کی اموات ہو چکی ہیں۔

اس کے علاوہ سینکڑوں افراد کو اغوا کر کے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے اور ہزاروں کو پابندِ سلاسل (گرفتار) کیا جا چکا ہے۔ راولا کوٹ میں 5 جون 2026 کو ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں پر قاتلانہ حملہ اور ٹارگٹ کلنگ کی گئی، جس میں ایک سینئر ممبر شازیب حبیب جاں بحق اور سردار عمر نذیر کشمیری شدید زخمی ہوئے۔ میرپور ڈویژن سے لانگ مارچ کے دوران فورسز کی فائرنگ سے میرپور اور کوٹلی سٹی میں متعدد نوجوان، بزرگ اور معصوم بچے شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ریاست بھر میں مواصلاتی نظام کو معطل کرتے ہوئے انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔

وزیر اعظم کو لکھے گئے خط (مورخہ 7 جولائی 2026) میں واضح کیا گیا ہے کہ ایکشن کمیٹی گزشتہ تین سالوں سے پرامن جدوجہد کر رہی ہے۔ اکتوبر 2025 میں حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت کی بنائی گئی اعلیٰ سطح کی مذاکراتی کمیٹی (جس میں رانا ثناء اللہ، قمر زمان کائرہ، اور دیگر شامل تھے) کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ تاہم، مئی اور جون 2026 تک ان مطالبات پر عملدرآمد کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔

ایکشن کمیٹی نے شکوہ کیا ہے کہ پرامن سیاسی کارکنوں کے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا گیا ہے اور اس کے 4 مرکزی رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کے سروں کی قیمتیں مقرر کر دی گئی ہیں، جو کہ سراسر ظلم اور غیر جمہوری اقدام ہے۔

خط میں وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکاری میڈیا پر حقائق کے خلاف جاری گمراہ کن بیانیے کو بند کیا جائے، ریاست میں جاری کریک ڈاؤن اور غذائی محاصرے کا فوری خاتمہ کیا جائے، گرفتار و لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے اور عوام کے ساتھ کیے گئے بنیادی آئینی و معاشی حقوق کے معاہدے پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

Share this content: