پاکستانی فورسز کی بربریت ہندوستانی فورسز سے بھی بدتر ہے، عمر نذیر کشمیری

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبر سردار عمر نذیر کشمیری نے کوٹیڑی سانحہ کے حوالے سے آئی جی آزاد کشمیر کے بیانات کو جھوٹ اور فریب کا پلندہ قرار دیتے ہوئے ان کا پروپیگنڈا بے نقاب کر دیا ہے۔

اپنے ایک جاری کردہ سخت ترین بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی رینجرز، ایف سی، پی سی، اسلام آباد پولیس اور آزاد کشمیر پولیس کی طرف سے پرامن عوام پر وحشیانہ حملہ کیا گیا، جس کی مثال بھارتی کشمیر میں ہندوستانی فورسز کی بربریت سے بھی نہیں ملتی۔

انہوں نے تصدیق کی کہ اس مشترکہ فورسز کی فائرنگ اور بربریت کے نتیجے میں باغ سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے مصطفیٰ رحیم، ماکھیالہ کے ناصر نذیر اور بڑہ باڑی کے صدیق سمیت 3 نوجوانوں کو شہید کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ آئی جی آزاد کشمیر فورسز سے جا کر خطاب کر رہے ہیں اور پریس کانفرنسز کے ذریعے جھوٹ کو فروغ دے رہے ہیں، لیکن ہم ہر اس ظلم و جبر کو عوام کے سامنے بے نقاب کریں گے۔

سردار عمر نذیر کشمیری نے اپنے بیان میں فورسز کی جانب سے کی جانے والی چادر اور چاردیواری کی پامالی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ ہماری جدوجہد مکمل طور پر پُرامن جدوجہد ہے۔ آئی جی آزاد کشمیر، ڈی آئی جی اور کمشنر پونچھ کے کہنے پر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا گیا، چھاپے مارے گئے اور گھروں میں لوٹ مار کی گئی۔ ناصر خورشید، حارث ہارون اور ان کے کزن کے گھر چھاپہ مارا گیا اور وہاں سے بچوں سے 19 ہزار روپے اور لیپ ٹاپ چھین لیا گیا، حتیٰ کہ گھروں سے دیسی مرغیاں اور مرغے ذبح کرکے لے گئے۔

انہوں نے ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ عادل کبیر کے گھر اور اس کے ساتھ ایک بیوہ خاتون کے گھر بدترین دہشت گردی کی گئی۔ کمشنر صاحب، ڈی آئی جی صاحب، ایس پی اور ڈی سی صاحب! آپ کو اس ظلم اور ایک ایک چیز کا حساب دینا پڑے گا۔

Share this content: