ایرانی شہر بندر عباس کے قریب امریکی فضائی حملے کے رد عمل میں پاسداران انقلاب نے اُس امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے ایران پر حملے کیے گئے تھے۔
پاسداران انقلاب کا بیان خبر رساں ادارے تسنیم نے شائع کیا۔ اس کے مطابق ’آج امریکی فوج کی جانب سے بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب فضائی حملے کے بعد، صبح چار بج کر 50 منٹ پر اُس امریکی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے جارحیت کا ارتکاب کیا گیا تھا۔‘
خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’یہ جواب ایک سنجیدہ تنبیہ ہے تاکہ دشمن جان لے کہ جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا، اور اگر اسے دہرایا گیا تو ہمارا رد عمل زیادہ فیصلہ کن ہو گا۔ اس کے نتائج کی ذمہ داری جارح فریق پر ہو گی۔‘
امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا پاسداران انقلاب کا بیان کویت کی فوج کے اس بیان کے ساتھ ہی سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’کویت کا فضائی دفاع کا نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔‘
تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ پاسداران انقلاب کا بیان کردہ حملہ اور کویت کے بیان کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان، سینٹکام، نے بھی جمعرات کی صبح ایک بیان میں کہا کہ اس نے چار ایرانی ڈرونز اور ایک ڈرون لانچ کرنے کے مقام کو نشانہ بنایا۔ سینٹکام نے اس حملے کو اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی بیان کیا تھا۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے لکھا تھا کہ ایک امریکی آئل ٹینکر نے اپنا ریڈار بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی، جسے انتباہی فائرنگ کر کے واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔
Share this content:


