( حقائق کی روشنی میں ایک جائزہ )
تحریر: رضوان اشرف
مختصراً، آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کی تشکیل کے بعد اس علاقے کو پوری ریاست جموں کشمیر کی آزادی کا بیس کیمپ بناتے ہوئے ایک عبوری آئین کے تحت یہاں ایک قانون ساز اسمبلی قائم کی گئی ، آئیں پہلے اس قانون ساز اسمبلی کے آئینی و انتظامی ارتقا کو ایک نظر دیکھ لیتے ہیں۔
24 اکتوبر 1947 کو آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کے قیام کا اعلان کیا گیا، تاہم ابتدائی برسوں میں ریاست کا انتظام محدود حکومتی ڈھانچے کے تحت چلتا رہا اور کوئی باقاعدہ منتخب قانون ساز اسمبلی موجود نہیں تھی۔
28 اپریل 1949 کو حکومتِ پاکستان، حکومتِ آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان معاہدۂ کراچی طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت دفاع، خارجہ امور، اقوام متحدہ میں مسئلۂ کشمیر کی نمائندگی، گلگت بلتستان پر مکمل پاکستانی حکومت کا اختیار، مواصلات اور دیگر اہم معاملات پاکستان کے سپرد کیے گئے، جبکہ آزاد کشمیر حکومت کو صرف آزادکشمیر کی مقامی انتظامی امور کی ذمہ داری دی گئی۔ اسی دور میں آزاد کشمیر کی الگ فوج بھی مرحلہ وار پاکستان آرمی میں ضم کر دی گئی اور دفاع کی مکمل ذمہ داری پاکستان نے سنبھال لی۔
1970 میں آزاد جموں و کشمیر ایکٹ نافذ کیا گیا، جس کے تحت پہلی مرتبہ منتخب قانون ساز اسمبلی کے قیام کی راہ ہموار ہوئی اور عام انتخابات منعقد ہوئے۔ بعد ازاں 1974 کے عبوری آئین نے آزاد کشمیر کے موجودہ آئینی ڈھانچے کی بنیاد رکھی، جس کے تحت صدر، وزیراعظم، قانون ساز اسمبلی اور دیگر آئینی اداروں کی تشکیل عمل میں آئی۔ اسی آئینی نظام میں پاکستان میں مقیم مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے 12 مخصوص نشستیں بھی شامل کی گئیں تاکہ وہ بھی ریاست کے سیاسی عمل میں نمائندگی حاصل کر سکیں۔
آج آزاد کشمیر کا انتظامی و آئینی نظام بنیادی طور پر 1974 کے عبوری آئین کے تحت چل رہا ہے، جبکہ دفاع، خارجہ امور اور مسئلۂ کشمیر سے متعلق بین الاقوامی معاملات بدستور حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہیں۔
اس میں کہاں، کیا اور کیوں غلطیاں ہیں یا کیا ہونا چاہیے جیسے سوالات پہ مباحثے کی بجائے صرف آزادکشمیر کے مقامی انتظامی معاملات چلانے کو جو طرزِ سیاست رائج کیا گیا اور اُسکے اثرات جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی صورت میں آج سامنے کھڑے ہیں۔
سب سے پہلا کلچر مقامی سیاست کو تہس نہس کیا گیا اور اس ضمن میں وفاقی دائرہ اختیار مضبوط کیا گیا جن میں مہاجرین جموں کشمیر کی پاکستان میں موجود 12 نشستیں سرِ فہرست ہیں۔ ان بارہ نشستوں کو بطور ایک سیاسی ہتھیار استعمال کرتے ہوئے وفاق میں بیٹھی ہر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی و منشا کے مطابق آزادکشمیر میں حکومتیں بنانا شروع ہوئے اور آئستہ آئستہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کو بھی باقاعدہ آزادکشمیر میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں بنا دیا گیا اور آزادکشمیر میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا جسے اب لوگ بیس کیمپ سے مقابلتاً بے توقیر اقتدار کا ریس کیمپ کہتے ہیں۔
اس کا پہلا نقصان یہ ہوا کہ یہاں سیاستدانوں کی توجہ و دلچسپی آزادکشمیر کی عوام کی بجائے پاکستان کی سیاسی فرموں کے مالکان اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہو گی چونکہ حکومت جب وفاق اور اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی سے بنا رہے ہیں تو عوام کے ووٹ کی پرچی کی اوقات صفر رہ گئی تو جس دروازے سے حکومت بنتی ہے وزارتیں بٹتی ہیں تو وہ دروازہ مقدس ہو گیا۔ ان سیاستدانوں میں وفاق کی چاپلوسی کرنے بارے ایک دوسرے میں باقاعدہ ریس کا آغاز ہو گیا جو کہ تاحال جاری و ساری ہے۔
اقتدار کی ہوس کی اس ریس میں سب نے صرف کرپشن اور عیاشیوں پہ توجہ رکھی اور نتیجتاً صرف وفاقی چاپلوسی کا بازار گرم رہا اور نہ تو کسی قسم کی قانون سازی ہو سکی نہ ہی مسئلہ کشمیر بارے مہاجرین جموں کشمیر کی سیٹوں پر براجمان نمائندے ایک پیسے کا کام کر سکے۔
یہ واضح رہے کہ آزادکشمیر کے عبوری آئین کے مطابق مسئلہ کشمیر بارے کسی بھی قسم کا اختیار آزادکشمیر اسمبلی کے پاس نہیں ہے بلکہ اس ضمن میں پاکستانی حکومت پہ مسئلہ کشمیر کی جملہ ذمہ داریاں ہیں۔ یعنی یہ مہاجرین جموں کشمیر کی بارہ نشستیں اصولا پاکستان اسمبلی میں ہونی چاہیں نہ کہ آزادکشمیر اسمبلی میں۔
اس کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ لوکل سیاسی کارکنان ختم ہو گئے اور صرف چاپلوس و کرپٹ مرید پیدا ہونا شروع ہوئے جن کا کام صرف سکیمیں، زکوٰۃ اور ٹھیکے کھانا ہے اور جس شخص کے بھی وفاق میں تعلقات ہیں وہ یہاں برسرِ اقتدار آ ٹھہرا اور یہ سیاسی مرید ہمیشہ ہر ایک کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ یوں ان سیاستدانوں کی حکومت کی بنیاد آزادکشمیر کی عوام کی بجائے وفاق ٹھہرا تو عوامی محرومیوں و مسائل کی بجائے وفاقی طاقتور حلقے کے ناز نخرے اٹھانے زیادہ اہم ہو گئے۔ اس طرح آزادکشمیر کی عوام میں ان سیاستدانوں کی نفرت جنم لینے لگی۔
جہادِ کشمیر بند ہو چکا تھا اور پاکستانی فیصلہ ساز اپنے تئیں کشمیر کا فیصلہ دہائیوں پہلے کر چُکے تھے۔ لائن آف کنٹرول پر پاکستانی مقتدرہ کی مدد سے باڑ لگ چُکی تھی۔ لوگ سب دیکھ اور محسوس تو کر ہی رہے تھے مگر تاحال قبیلوں و برادریوں و رشتوں کی وجہ سے خاموش تھے اور ان سیاستدانوں سے بدظنی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔
آزادکشمیر کے عوام قبیلوں میں منظم ہیں۔ پہلے پہل عوامی نفرت کو قبیلوں، برادریوں، علاقوں وغیرہ میں تقسیم کر کے وقت گزارا جاتا رہا۔ پھر سوشل میڈیا کا دور آیا اور لوگوں کے پاس نہ صرف ایک دوسرے سے روابط و معلومات میں اضافہ ہوا بلکہ ایک انسانی سماج کی بنیادی ضرورتوں پہ لوگ متوجہ ہونا شروع ہوئے۔ کچھ وقت تک سکول، کالجز، سڑکوں وغیرہ کی بنیاد پہ لوگ انکے نعرے مارتے رہے مگر جب لوگوں کو یہ پتہ چلا کہ یہ سارا عوامی پیسہ ہے تو سیاستدانوں کا خواہ مخواہ کا احسان سر لینے والی روایت بھی دم توڑنے لگی۔
مختلف اوقات میں مقامی ترقی و بہتری و عوامی فلاح کی بجائے ان سیاستدانوں کی جانب سے وفاقی چاپلوسی ہی محترم ٹھہرتی رہی تو عوام کو اعتماد ان سے مکمل اُٹھ چُکا تھا مگر پھر بھی قبیلے برادری کی فطری تنظیم میں یہ سیاستدان کسی نہ کسی طرح سانس لے رہے تھے۔
پھر اگست 2019 میں ہندوستان نے پاکستانی مقتدرہ کی مفاہمت سے مقبوضہ کشمیر کو ضم کر دیا۔ یہ ایک ایسی آگ تھی جسے کوئی بھی ریاستی شہری ہضم نہیں کر سکتا تھا اور اسی کے خلاف لاکھوں جانوں و عزتوں کی قربانیاں دی گئ تھی۔ عوام کو اپنے ان حکمرانوں سے امیدیں تھی کہ یہ احتجاج کرینگے ریاستی تقسیم کی سازش کے خلاف اٹھیں گے۔ عوام اس امید پر احتجاج کرتے رہے مگر ان سیاستدانوں کی جانب سے مکمل خاموشی اور اطمینان ہی دیکھنے کو ملا تو عوام کی نفرت ان سیاستدانوں سے اٹل ہو گئ۔
یہ وہ حالات ہیں جہاں سیاست کا مطلب عوامی فلاح کی بجائے وفاقی بوٹ چاٹی سمجھا جانے لگا اور بوٹ چاٹی کی اس ریس میں پاکستان کے ساتھ بڑھ چڑھ کر صرف اقتدار کے لیے پاکستانی مقتدرہ کے پاؤں پکڑ کر وفاداری کا حلف دیا جاتا رہا۔ اقتدار کے لیے سیاسی جماعتیں بدلنا یا نئ جماعتیں بنانا معمول بن گیا اور آزادکشمیر کے عوام کی بجائے وفاق ان سیاستدانوں کی ترلوں منتوں کا مرکز بن گیا۔ اس صورتحال میں عوامی مسائل پہ لوگ اپنے اپنے علاقوں میں آوازیں بلند کرنے لگے اور سیاستدان عوامی مسائل سے قطعی عدم دلچسپی اور وفاق کی بوٹ چاٹی میں مکمل مصروف رہے اور آہستہ آئستہ عوامی ایکشن کمیٹیز وجود میں آنی شروع ہوئیں اور بالآخر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا قیام بھرپور عوامی حمایت و قوت سے عمل میں آیا۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا قیام اس بات کا کُھلا اعلان تھا کہ اس آزادکشمیر سے سیاسی نظام ختم ہو چُکا ہے، مر گھپ چُکا ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات آزادکشمیر کے شہریوں کی بنیادی انسانی ضروریات تھی ۔ ایسی ضروریات جنہیں مہیا کرنا آزادکشمیر کی حکومتوں کی اکلوتی ذمہ داری تھی۔ عوام جب ایکشن کمیٹیز میں منظم ہو کر اپنے حقوق کے لیے خود نکلی تو اُس وقت ان سیاستدانوں کو اپنی موت کا احساس ہوا مگر انہیں عقل پھر بھی نہ آئ۔
بجائے اس کے یہ عوام سے معافی مانگ کے کرپشن و عیاشیوں سے تائب ہو کر خود کو عوامی عدالت میں پیش کرتے ان سیاستدانوں نے خود کو زندہ رکھنے کا نیا ڈھنگ نکالا اور عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف ہندوستانی ایجنٹ اور ملک دشمن، پاکستان دشمن جیسے الزامات لگانے شروع کر دئیے۔ یعنی یہ بے عقل آزادکشمر کے لوگوں کو یہ کہنا شروع ہو گئے کہ آزادکشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی ہندوستانی ایجنڈا ہے۔ اقتدار اور کرپشن کی ہوس میں ڈوبے ان سیاستدانوں کے اس گھٹیا اور منفی روئیے نے عوام کو مزید بدظن کر دیا اور عوام ان سے مکمل لاتعلق ہو گئے۔
ان سیاستدانوں نے پھر بھی عقل کو ہاتھ نہ مارا اور اپنے بنیادی انسانی حقوق کا تقاضا کرنے والے لوگوں کو ہندوستانی ایجنٹ کہتے ہوئے پاکستانی مقتدرہ کی مِنت سماجت شروع کر دی کہ ایکشن کمیٹی کو ہمارے راستے سے ہٹایا جائے چاہے انہیں قتل کرو مگر ہمارا راستہ صاف کرو کیونکہ یہ عوام کو شعور دے رہے ہیں اور عوام ہماری کرپشن اور عیاشیوں پہ نہ صرف سوالات کر رہی ہے بلکہ اب ہمیں سرعام ڈنگر کہنا شروع ہو گی ہے۔
ان سیاستدانوں نے اپنی کرپشن و عیاشیاں بچانے کو عام انسان کی اپنے بنیادی حقوق کے بارے میں ہر طرح سے جائز ، قانونی اور جمہوری جدوجہد کو دہشتگردی، پاکستان دشمنی ، قوم پرستی ، ہندوستانی ایجنٹی اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے ہوئے پاکستانی مقتدرہ کے پاؤں پکڑے کہ ان لوگوں سے جان چھڑاؤ بلکہ یہ تک کہنا شروع ہوئے کہ یہ جتھے ہیں اور یہ قوم پرست انکی رہنمائی کر رہے ہیں اور کل یہ خودمختار کشمیر بنا دینگے۔
الغرض انہوں نے مل کر باجماعت پاکستانی مقتدرہ کے پاؤں پکڑ کر عوامی حقوق کی تحریک کو اپنی کرپشن و عیاشیاں چھپانے کو دہشتگرد کہتے ہوئے پاکستانی فورسز کو آزادکشمیر میں بھیج کر سری نگر اور غزہ کے حالات پیدا کر دئیے گئے۔ مگر ان اقدامات سے لوگ دبنے کی بجائے مزید منظم ہو گئے اور ان سیاستدانوں کی کرپشن و نوسربازوں جاری رکھنے کے لیے پاکستانی فورسز کے ان ظالم اقدامات کی بدولت ان سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکمرانوں سے بھی عوامی نفرت بڑھنا شروع ہو گئ ہے۔
آزادکشمیر میں اس وقت حالات سری نگر اور غزہ کے بنا دئیے گئے ہیں اور ان حالات میں بھی ان سیاستدانوں کی اقتدار کی ہوس آپ سب کے سامنے ہے کہ یہ کیا کیا نہیں کر رہے۔
پاکستانی مقتدرہ آزادکشمیر کے عوام کو انکے بنیادی انسانی حقوق کی تحریک کی حمایت کرنے کی بجائے آزادکشمیر کے ان کرپٹ اور عیاش سیاستدانوں کو بچانے کود پڑی اور ہندوستان اور اسرائیل کے مظالم کی آزادکشمیر میں مثالیں پوری دنیا میں موجود کشمیری بلند کرنے پر مجبور ہو گئے۔
پاکستانی مقتدرہ نے ان کرپٹ سیاستدانوں کے ہوسِ اقتدار اور کرپشن کے تحفظ کے لیے آزادکشمیر کو غزہ بنا کر تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی۔ وہ پاکستان جسے کشمیری نہ صرف اپنا بڑا بھائ اور وکیل مانتے تھے آج نہ صرف اسے قاتل کہتے ہوئے پوری دنیا میں محوِ احتجاج ہیں بلکہ اس تاریخی غلطی کی وجہ سے پاکستانی ریاست نے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پچھلے 75 سالوں سے بہت انویسٹمنٹ و سفارتکاری کے بعد جو نظریہ کشمیر بنایا تھا آج وہی نظریہ کشمیر پاکستانی مقتدرہ نے عالمی دنیا کے سامنے خود اپنے ہاتھوں سے سر کے بل کھڑا کر دیا ہے۔
شریکِ جُرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے کے مصداق یہ سیاسی ماسیاں سب خاموش ہیں اور عوام سے انفرادی انفرادی نفرت کی سلامی وصول کر رہے ہیں اور مزید کرینگے ۔ یہ اصل الیکشن ہو رہا ہے کہ یہاں عوام کس کے ساتھ ہے۔ ان کا پہلے برادری ،کُنںے ، قبیلے کا بھرم تھا لوگ خاموش تھے ساتھ نہیں تھے مگر چُپ تھے، یہ جب بھی کہیں ڈگڈگی بجاتے تھے لوگ پہنچ جاتے تھے۔ مگر یہ بات انکی نظر میں اس لیے نہیں آئ کیونکہ یہ سیاستدان نہیں منگتے ہیں ۔۔۔۔ یہ جو لوگ انہیں جل بُھن کر ڈنگر کہتے ہیں ناں یہ بے اوقاتے اس قابل بھی نہیں ہیں۔ ان سے جانور بہت بہتر مخلوق ہیں ، خُدا کی قسم ان کے کردار کو دیکھو کہ انہوں نے برادری ، کُنبہ، قبیلہ ، ہمدردی، رشتہ، ریاست، شہریت کچھ نہیں دیکھا۔ جانوروں میں بھی اللہ تعالیٰ نے بہت وفادار مخلوقیں پیدا کی ہیں ، کُتا وفاداری میں ان انسان نما چیزوں سے بہت بہتر ہے۔
پاکستانی مقتدرہ کو صرف آزادکشمیر کی ان سیاسی ماسیوں کی کرپشن و عیاشی کو تحفظ دینے ،مزید غلطیاں اور بے وقوفیاں کرنے ، نظریہ کشمیر کو اپنے ہاتھوں سر کے بل کھڑا کرنے اور پوری دنیا کو پاکستان پر انگلی اٹھانے کے مواقع فراہم کرنے کی بجائے آزادکشمیر کے عوام کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوام کی حقیقی ترجمان ہے اور آج ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے لاکھوں لوگ اپنے بنیادی انسانی اور وفاقی حکومت سے بارہا تسلیم شدہ مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔
انہیں دہشتگرد اور دوسرے القابات سے ماحول مزید خراب کرنے کی بجائے پاکستانی مقتدرہ کو کشمیری عوام کو سینے سے لگانا چاہیے عوام کو بنیادی انسانی حقوق کی مانگ پہ گولی و گرفتاری کی بجائے عوام کو بنیادی انسانی حقوق مہیا کرتے ہوئے ان سیاسی ماسیوں کو لگام دینی چاہیے نہ کہ ان سیاسی ماسیوں کی وجہ سے عوام کو پاکستان دشمن اور غدار سمجھنا چاہیے۔ اب بھی وقت ہے ان کرپٹ سیاسی ماسیوں کی کرپشن و عیاشیوں کے تحفظ کے لیے معصوم اور مخلص کشمیری کا لہو بہانے کی بجائے انہیں سینے سے لگاتے ہوئے ان سے بھائ چارہ اور محبت بڑھانی چاہیے، یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ کشمیریوں نے سری نگر کا قبرستانِ شہدا بھر دیا ہے مگر بندوق کے ظلم کے آگے آج بھی جھکنے پہ تیار نہیں اور ہندوستانی تسلط کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔
کشمیری خون میں ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے مر جانا مٹ جانا اور مزاحمت کرنا بھرپور طریقے سے شامل ہے۔ آزادکشمیر کے ان کرپٹ سیاستدانوں کی کرپشن و عیاشیوں کے تحفظ کے لیے ریاستی عوام کو مزید آزمائش میں ڈالنا پاکستانی مقتدرہ کی تاریخی غلطی ہو گی جس کی سزا بھگتنا نوشتہِ دیوار ہے۔
٭٭٭
Share this content:


