پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیرِ انتظام جاری پہیہ جام، شٹر ڈاؤن ہڑتال اور دھرنے کو 33 روز جبکہ انٹرنیٹ سروس کی بندش کو 37 روز مکمل ہو گئے ہیں۔
احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ طویل بندش اور حکومتی اقدامات کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔
احتجاجی قیادت کے مطابق حکومت کی جانب سے اشیائے خورد و نوش کی ترسیل پر عائد پابندی کے باعث مختلف علاقوں میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ خوراک اور بنیادی ضروریات تک رسائی میں رکاوٹ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
دوسری جانب انٹرنیٹ کی مسلسل بندش سے طلبہ، فری لانسرز، تاجروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی شدید مالی اور تعلیمی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے مواصلاتی سہولیات معطل ہونے کے باوجود ان کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات سامنے نہیں آئے۔
واضح رہے کہ اس صورتحال پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ احتجاجی قیادت اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر رہی ہے۔
Share this content:


