کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی حالیہ عوامی تحریک کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی اور سیاسی پس منظر کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔ اس تحریک کی فکری جڑیں اُس دور تک جاتی ہیں جب پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت قائم تھی اور سیاسی سرگرمیوں، آزادیٔ اظہارِ رائے اور اختلافِ رائے کے لیے ماحول انتہائی محدود تھا۔
اسی گھٹن زدہ دور میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (JKPNP) نے خطے کی سیاسی حیثیت، عوامی حقوق اور جمہوری اصولوں سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا۔ ایسے وقت میں جب ریاستی طاقت اور سیاسی دباؤ کے باعث بہت سے حساس معاملات پر کھل کر گفتگو کرنا ناممکن تھا، JKPNP نے اپنے نظریاتی مؤقف پر سمجھوتہ نہیں کیا اور خطے کے دیرینہ سیاسی مسائل کو جرات کے ساتھ اجاگر کیا۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (JKPNP) جموں و کشمیر کی وہ پہلی بائیں بازو کی سیاسی جماعت ہے، جس نے دوٹوک اور غیر مبہم انداز میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان جموں و کشمیر پر پہلا حملہ آور اور قابض ہے۔ اسی اصولی، ترقی پسند اور آزادی پسند سیاست کی پاداش میں پارٹی اپنے قیام کے روز اول سے مسلسل ریاستی جبر، سیاسی انتقام اور منظم نشانہ سازی کا سامنا کر رہی ہے۔
اُس وقت پارٹی کے ان انقلابی خیالات کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں متنازع قرار دیا گیا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خطے کے سیاسی حالات، عوامی شعور اور زمینی مسائل کے ادراک میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ آج کی اس وسیع عوامی تحریک میں جو نکات زیرِ بحث ہیں، وہ انھی سوالات اور مطالبات سے گہری مماثلت رکھتے ہیں جنہیں JKPNP نے کئی دہائیاں قبل اٹھایا تھا۔
خطے میں حقوق کی اس بیداری اور عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے اب ریاست کی جانب سے غیر معمولی اور وحشیانہ ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث ایک مہینے سے زائد عرصے سے جاری ریاستی بربریت نے صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ پارٹی کی پوری موجودہ قیادت— بشمول مرکزی چیئرمین واجد علی واجد ایڈووکیٹ، سیکریٹری جنرل الیاس کشمیری، سابق چیئرمین ذوالفقار ایڈووکیٹ، کرن کنول، شہزاد حسرت، سلمہ حمید سمیت متعدد رہنما اور خواتین قیادت— حملوں، ہراسانی، گرفتاریوں، دھمکیوں اور شدید سیاسی دباؤ کی زد میں ہے۔ ان سرگرم رہنماؤں اور کارکنوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد، جبکہ شناختی کارڈز (CNIC) اور پاسپورٹ سمیت دیگر سفری دستاویزات اور موبائل سمز بلاک کر کے ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس سے انہیں روزمرہ معاملات، مالی لین دین اور مواصلاتی سہولیات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اگرچہ متعلقہ حکام کی جانب سے ان اقدامات کی قانونی بنیاد پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، لیکن یہ فسطائی اقدامات صرف چند افراد کے خلاف نہیں، بلکہ خطے میں جمہوریت، سماجی انصاف، آزادیِ اظہار اور بائیں بازو کی اس فکر کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرانے کی ایک منظم کوشش ہیں جو سامراج، عسکریت پسندی، قبضے اور ہر قسم کے جبر کی مخالفت کرتی ہے۔
تحریک کو دبانے کے لیے کیے جانے والے ان انتقامی اقدامات کا دائرہ کار اب عوامی املاک اور علمی مراکز تک پھیل چکا ہے، جس کے تحت ضلع باغ میں قائم معروف ‘کیمون لائبریری’ کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔ مقامی حلقوں نے تعلیمی و علمی مراکز کو بند کرنے کے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے طلبہ، محققین اور عام قارئین بری طرح متاثر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی، تحریک میں شامل سرگرم سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے، اور احتجاج میں پیش پیش افراد کے گھروں، دکانوں اور نجی املاک کو حکومتی تحویل میں لیا جا رہا ہے۔
علاقائی رپورٹوں کے مطابق، فورسز کی جانب سے چھاپوں کے دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے گھروں میں گھس کر خواتین و بچوں کو تشدد اور ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ گھروں میں موجود نقدی (کیش)، سونا اور دیگر قیمتی اشیاء کا صفایا کر کے معاشی طور پر مفلوج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عوامی آواز کو بند کیا جا سکے۔
پارٹی اعلامیے کے مطابق، یہ صرف جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کا انفرادی مسئلہ نہیں، بلکہ جموں و کشمیر میں جمہوری سیاست، آزادیِ اظہار، سیاسی تکثیریت اور بائیں بازو کی سیاست کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر ایک پرامن سیاسی جماعت کو محض اس کے نظریات اور عوامی حقوق کی وکالت کی بنیاد پر دیوار سے لگایا جاتا ہے، تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ پورا جمہوری عمل خطرے میں ہے۔
اس تناظر میں، JKPNP کے کردار کو خطے کی سیاسی تاریخ کے ایک اہم اور بنیادی باب کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ایک محدود اور پرتشدد سیاسی ماحول میں اٹھائی گئی آوازیں بعد کے ادوار میں ایک وسیع عوامی تحریک اور مباحث کا حصہ بن گئیں۔ آج تمام جمہوری قوتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، دانشوروں اور عالمی برادری کے لیے یہ لازم ہو چکا ہے کہ وہ اس سیاسی انتقام کی مذمت کریں، کیونکہ خاموشی ہمیشہ جبر کو تقویت دیتی ہے، جبکہ جمہوریت اختلافِ رائے کے احترام اور سیاسی آزادیوں کے تحفظ ہی سے مضبوط ہوتی ہے۔
Share this content:


