پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے چھ دن سے لاپتہ ڈائریکٹر اکیڈمکس پروفیسر ڈاکٹر واجد عزیز لون کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹر لون پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے اہم رہنما شوکت نواز میر کے بہنوئی ہیں۔ 5 اور 6 جون کی درمیانی شب نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد ڈاکٹر لون کو جے اے اے سی کے رہنما کے گھر سے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا: "اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن پروفیسر ڈاکٹر واجد لون کی جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات 11 بجے بغیر کسی قانونی جواز کے چند مسلح نقاب پوشوں کی طرف سے ان کے سسرال سے اغوا کے بعد نامعلوم مقام پر منتقلی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔”
بیان میں حکومتی ذمہ داران، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان، یونیورسٹی کے رجسٹرار اور وائس چانسلر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر واجد عزیز لون کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے کیونکہ بیان کے مطابق ڈاکٹر لون پر کسی قسم کا کوئی الزام نہیں ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے: "ان کی بلاجواز حراست سے ادارے کا تقدس مجروح ہوا ہے۔”
بیان کے مطابق ڈاکٹر لون کا خاندان بھی شدید ذہنی کوفت اور اضطراب کا شکار ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی غیر قانونی حراست پر یونیورسٹی کے فیکلٹی اراکین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر واجد لون کے خاندان نے اس خطے کی ہائی کورٹ میں ان کی بازیابی کے لیے ایک رٹ پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے. اس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر واجد لون لاپتہ ہیں اور اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے، وہ کس حال میں ہیں، اور نہ ہی خاندان کو ان تک کوئی رسائی حاصل ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر لون جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم رہنما شوکت نواز میر کے بہنوئی ہیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق وہ اور ان کی اہلیہ 5 جون کی رات شوکت نواز میر کے گھر گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ شوکت نواز میر گھر پر موجود نہیں تھے، البتہ ان کی اہلیہ اور بچے گھر پر موجود تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ 5 اور 6 جون کی درمیانی شب کئی مسلح نقاب پوش شوکت نواز میر کی تلاش میں ان کے گھر زبردستی داخل ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ شوکت نواز میر کو گھر نہ پا کر انہوں نے ڈاکٹر واجد عزیز لون اور شوکت نواز میر کے ایک اور عزیز نوید افتاب کو اپنے ساتھ لے گئے۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت سے اب تک ان کا ڈاکٹر لون اور نوید افتاب سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر واجد عزیز لون پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بطور پروفیسر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور تعلیمی انتظام و انصرام کے شعبے میں 25 سال سے زائد تجربہ رکھتے ہیں اور اس دوران علمی و تحقیقی میدان میں نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے پانچ سال سے زائد عرصے تک سعودی عرب کی جامعہ جدہ میں بھی تدریسی اور تحقیقی فرائض انجام دیے۔
ڈاکٹر واجد عزیز لون نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (پی آئی ای اے ایس) سے کمپیوٹر و انفارمیشن سائنسز میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کی ڈگری حاصل کی، جبکہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسٹر سے پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ مکمل کی۔
اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران وہ مختلف اہم انتظامی اور تعلیمی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وہ شعبہ کمپیوٹر سائنس اینڈ آئی ٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ وہ انچارج سٹی کیمپس کے علاوہ ڈائریکٹر فنانشل ایڈ، ڈائریکٹر یوتھ انگیجمنٹ، کنٹرولر امتحانات اور سافٹ ویئر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے وائس چانسلر کے مشیر بھی رہے ہیں۔
ڈاکٹر واجد عزیز لون ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے اینٹی پلیجرزم سروسز، وزیرِاعظم یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام اور وزیرِاعظم گرین یوتھ موومنٹ کلب کے فوکل پرسن بھی ہیں۔
Share this content:


