پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک کے تناظر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر کشمیری نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے بیانات پر سخت ردِعمل دیا ہے۔
عمر نذیر کشمیری نے کہا، "اگر ہم انڈین ایجنٹ تھے تو حکومت گزشتہ تین سال سے ہم سے مذاکرات کیوں کرتی رہی؟ اگر ہم دہشت گرد تھے تو پھر انٹرنیٹ بند کرنے اور بلیک آؤٹ کرنے کے بجائے دنیا کو دکھایا جاتا کہ ہمارے پاس کون سا اسلحہ موجود ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری استقامت کی وجہ سے حکومت کے تمام بیانیے، جھوٹ اور پراپیگنڈا عالمی دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔”
عمر نذیر کشمیری کا کہنا تھا کہ احتجاجی تحریک عوامی حقوق کے لیے ہے اور اس کے خلاف اختیار کیا گیا حکومتی مؤقف حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
واضح رہے کہ حکومتی مؤقف اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ممکن نہیں، اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کے مؤقف کی تردید کی جا رہی ہے۔
Share this content:


