پاکستان میں بدترین فسطائیت کا دور، کشمیر اور کوئٹہ کے مظاہرین جرات کی مثال ہیں، عمار علی جان

حقِ خلق پارٹی کے رہنما عمار علی جان نے اپنے ایک اہم بیان میں ملک کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت راولاکوٹ میں کشمیری عوام کے جمہوری حقوق جبکہ کوئٹہ میں زیارت کے شہدا کے انصاف کے لیے دھرنے جاری ہیں۔ بدترین فسطائیت اور جبر کے اس دور میں یہ مظاہرین پورے پاکستان کے لیے جرات و استقامت کی بہترین مثال ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سرکاری میڈیا اور کٹھ پتلی حکمران دونوں دھرنوں کے خلاف بدترین پروپیگنڈا کر کے انہیں غدار قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عمار علی جان نے سوال اٹھایا کہ جب "پاکستان کی شہ رگ” (کشمیر) اور ریاست کی بقا کی لڑائی میں شہید ہونے والوں کے لیے انصاف مانگنے والوں کو بھی "علیحدگی پسند” ڈکلیئر کر دیا جائے، تو پھر باقی عوام کی اس ریاست کی نظر میں کیا حیثیت رہ جائے گی؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں واحد کامیاب علیحدگی پسند تحریک وہ لوگ چلا رہے ہیں جنہوں نے اپنے لیے علیحدہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں، علیحدہ تعلیمی ادارے، علیحدہ ہسپتال اور علیحدہ انصاف کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ ان کے برعکس، باقی عوام غربت، بھوک، دہشت گردی اور جبر کے ماحول میں صرف اپنے جینے کا بنیادی حق مانگ رہی ہے۔

حقِ خلق پارٹی کے رہنما نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں مزید شہادتیں ہوئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی مظاہرین کے خلاف پروپیگنڈے میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ یہ اب پاکستانی عوام کا امتحان ہے کہ وہ اپنی سوچ کو سرکاری جھوٹ کے تابع کرتے ہیں یا پھر کوئٹہ اور کشمیر میں اپنے مظلوم بہن بھائیوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ ان تمام گھمبیر مسائل کا فوری حل صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے پالیسی کی تبدیلی میں ہے۔ لیکن بدقسمتی سے چند لوگ اپنی انا کو ریاست سے اوپر سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمیشہ نقصان پاکستان کا ہوتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ عوام کے درد کو سمجھا جائے، ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

Share this content: