کیلگری، کینیڈا /کاشگل نیوز
کینیڈا کے شہر کیلگری میں کشمیری کینیڈین خواتین کی بڑی تعداد نے آزاد جموں و کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے پاکستانی فورسز کی جانب سے جاری کریک ڈاؤن، گرفتاریوں، چھاپوں اور شہریوں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی جبر اور طاقت کا بے دریغ استعمال کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کو نہیں روک سکتا۔
مظاہرے کے شرکاء نے راولاکوٹ، کوٹلی اور دیگر علاقوں میں پاکستانی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں جانوں سے محروم ہونے والے نوجوانوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
مقررین نے کہا کہ کشمیری عوام اس وقت ایک سنگین انسانی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے ہیں، خاندان سوگ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور عوام کو خوف کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مقررین نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، جبر اور بندوق کے زور پر کسی قوم کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے احتساب اور انصاف کا مطالبہ کیا۔
احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے آزاد جموں و کشمیر کی ان بہادر خواتین کو خراجِ تحسین پیش کیا جو میدانِ عمل میں اپنے بھائیوں اور خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں، احتجاجی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں اور عوامی حقوق کی تحریک کو اپنی استقامت، قربانی اور عملی خدمات سے مضبوط بنا رہی ہیں۔
مقررین نے کہا کہ کشمیری خواتین ہمیشہ آزادی، وقار اور عوامی حقوق کی جدوجہد کا ہراول دستہ رہی ہیں اور آج بھی وہ ظلم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کینیڈا کی حکومت، عالمی برادری اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ آزاد جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی وفد علاقے میں بھیجیں تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جا سکے اور متاثرہ عوام کی آواز دنیا تک پہنچائی جا سکے۔
مظاہرے کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دنیا بھر میں مقیم کشمیری اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر محاذ پر ان کی سیاسی، انسانی اور جمہوری جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔
مقررین نے کہا کہ پاکستانی ریاستی جبر، گرفتاریاں اور تشدد کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے حقوق، اپنی شناخت اور اپنی ریاست کے وقار کے لیے ڈٹے رہیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم عارضی ہوتا ہے جبکہ عوام کی جدوجہد دائمی۔ ہم ثابت قدم رہیں گے، ہم مزاحمت کریں گے اور بالآخر کامیاب ہوں گے، کیونکہ ہماری قوم کو نہ کبھی شکست دی جا سکی ہے اور نہ آئندہ دی جا سکے گی۔
Share this content:


