جنگ بندی کے باوجود لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے جاری

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی دھماکوں کا سلسلہ نہ تھم سکا۔

لبنان کے جنوبی علاقوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں کی شدت حالیہ عرصے میں سب سے زیادہ رہی ہے۔

یہ بمباری جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ہاتھوں چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ’حزب اللہ کے ٹھکانوں‘ پر 150 سے زیادہ حملے کیے ہیں۔

لبنان میں امن کے حالیہ وعدے اکثر مزید جنگ پر منتج ہوئے ہیں۔

اب ایک نئی جنگ بندی نافذ ہے لیکن کوئی پائیدار امن معاہدہ تاحال دور دکھائی دیتا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ سرحد کے ساتھ ایک ایسا سکیورٹی زون قائم کرنا چاہتا ہے جہاں حزب اللہ کی موجودگی نہ ہو۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل اس معاہدے کا احترام کرے گا تو وہ بھی اس پر عمل کرے گی۔

بی سی سی کی نامہ نگار کے مطابق ہم نے دن جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے ایک ہسپتال میں گزارا، جو ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے جہاں سے شہر اور اردگرد کے دیہات کا 360 درجے کا منظر دکھائی دیتا ہے۔

ہماری ٹیم نے وہاں موجودگی کے دوران ایک درجن سے زیادہ اسرائیلی فضائی حملے گنے۔

جب ہم وہاں سے روانہ ہو رہے تھے تو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ تاہم ہسپتال میں ہمارے مقامی رابطوں نے بتایا کہ دھماکے جاری رہے۔

نبطیہ ایمبولینس سروس کے مطابق جنگ بندی کے مقررہ وقت کے بعد بھی کم از کم 12 حملے ہو چکے ہیں۔

شہر کے لوگوں کو اس بات کی بہت کم امید ہے کہ اس جنگ بندی کا احترام کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں لبنانی صدر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ تعمیر نو کی منصوبہ بندی، معاشی بحالی اور تشدد کے ’متواتر ادوار‘ کے خامتے کے لیے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات واحد حل ہیں۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان کے مطابق روبیو نے کہا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں امریکہ لبنانی ریاست کی مکمل حمایت کرے گا۔

دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے کردہ وعدوں کی کسی بھی خلاف ورزی کی ذمہ داری ’امریکہ پر عائد ہو گی۔‘

عراقچی نے آج دوپہر اپنے پاکستانی ہم منصب سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کہا کہ طے پانے والے معاہدے کا مقصد ’تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ‘ ہے جس میں لبنان بھی شامل ہے اور اس معاہدے کی کسی بھی ’خلاف ورزی کا ذمہ دار امریکہ ہو گا۔‘

جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’اسرائیل کی یہ پالیسیاں علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔‘

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جمعہ کی شب جاری ہونے والے ایک بیان میں اسماعیل بقائی نے لبنان کے مختلف حصوں پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ان حملوں کے نتیجے میں درجنوں لبنانی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ مُلک کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔‘

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’قابض اور نسل کش صہیونی حکومت‘ کی جانب سے کشیدگی میں مسلسل اضافے کے علاقائی امن و سلامتی پر نہایت سنگین اور فوری اثرات مرتب ہوں گے۔‘

اسماعیل بقائی نے موجودہ صورتحال کا براہِ راست ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’18 جون 2026 کو جنگ کے خاتمے سے متعلق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 1 کا حوالہ دیا، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جنگ بندی تمام محاذوں پر ہوگی۔‘

انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران اپنے مفادات، سلامتی اور اپنے اتحادیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ’تمام ضروری اقدامات‘ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

Share this content: