پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف 10 مرکز میں کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کیے جانے والے احتجاج پر تھانہ شالیمار میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، یہ مقدمہ ترجمان اپوزیشن اتحاد اخوانزادہ حسین یوسفزئی اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت دیگر شرکاء کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق، اس احتجاج میں تقریباً 400 سے 500 افراد شریک تھے، جنہوں نے سڑک بلاک کر کے ٹریفک کی روانی کو معطل کیا۔
متن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے وارننگ دیے جانے کے باوجود مظاہرین نے منتشر ہونے سے صاف انکار کر دیا۔
مقدمے کے متن میں مزید الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ مظاہرین نے احتجاج کے دوران میڈیا کی ڈی ایس این جی (DSNG) گاڑی پر حملہ کر کے اس میں توڑ پھوڑ کی۔ اس کے علاوہ، مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مزاحمت کی، سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ مظاہرے پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات اور پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر ایکٹ (Peaceful Assembly and Public Order Act) سمیت دیگر قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
Share this content:


