جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر ارباب ایڈووکیٹ نے راولاکوٹ کی موجودہ صورتحال پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران شہر میں کرفیو، عوام پر طاقت کے استعمال، طبی سہولیات کی بندش اور شہریوں کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھنے جیسے اقدامات کیے گئے۔
ارباب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ جب یہ صورتحال بیرونی دنیا میں نمایاں ہوئی تو حکومتی اداروں کی جانب سے ایمبولینسوں کے ذریعے فوٹو سیشن اور خوراک کی تقسیم کی سرگرمیوں کو میڈیا پر نمایاں کر کے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے انہوں نے "ڈرامہ” قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد سے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سفید جھنڈوں کے ساتھ خوراک اور ادویات لے کر راولاکوٹ کی جانب روانہ ہوئے تھے، تاہم ان کے بقول راستے میں انہیں اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
ارباب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات حکمرانوں کی "بوکھلاہٹ اور ناکامی” کا ثبوت ہیں۔
Share this content:


