کشمیر میں احتجاج کو ایک مہینہ مکمل ، ڈڈیال میں مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ ، ایک شہری ہلاک

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کال پر پاکستان زیر انتظام کشمیر بھر گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج جاری ہے۔مختلف علاقوں میں احتجاجی دھرنے اور مطاہرے بھی جاری ہیں۔آج ڈڈیال میں مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ سے ایک شہری ہلاک ہوگیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ایک مہینے سے جاری احتجاج کے دوران فورسز کی نہتے مظاہرین پر سیدھا فائرنگ سے اب تک دو درجن سے زائد افراد کی ہلاکت ریکارڈ کی گئی ہے ۔جسے کشمیری عوام کی ریاستی قتل عام کا ایک سیاہ باب قرار دیا جارہا ہے۔

یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب 5جون جیک کے کور ممبر عمر نذیر کشمیری پر کھائیگلہ کے قریب مبینہ طور پر نقاب پوشوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں عمر نذیر کشمیری زخمی جبکہ ان کے قریبی ساتھی شازیب حبیب ہلاک ہو گے تھے۔

شازیب حبیب کی ہلاکت کے بعد جیک کے کارکنان اور ورثا نے شازیب کی میت کو سی ایم ایچ کے باہر رکھ کر احتجاج شروع کیا اور قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر نہ ہونے تک میت نہ دفنانے کا اعلان کیا تھا مگر 8 جون فورسزز نے کریک ڈاون کرتے ہوۓ شازیب کی لاش اپنی تحویل میں لیتے ہوۓ دھرنے کے شرکا کو منتشر کر دیا اس کریک ڈاون میں متعدد مظاہرین اور سیکورٹی فورسزز کے لوگ ہلاک ہوۓ تھے۔

خطے میں 5 اور 6 جون کی شب سے معطل ہونے والی انٹرنیٹ سروس کو ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ بینک تعلیمی ادارے بھی مکمل بند ہیں۔

9 جون بھمبر سے شروع ہونے والے جیک کے لانگ مارچ نے راولاکوٹ میں ڈھیرے ڈال رکھے ہیں اس وقت ضلع راولاکوٹ میں جیک کی جانب سے پانچ مقامات پر دھرنے لگاۓ گے ہیں۔

وکلا .صحافیوں. ٹی ٹیپ کے رہنماوں سمیت پاکستان کے متعدد سیاست دانوں کی جانب سے جیک اور حکومت کے مابین مذاکرات کی کوششیں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہیں تاہم جیک کے رہنماوں کا موقف ہے کے پانچ جون سے پہلے کی صورتحال پر حالات کو لایا جاۓ جیک کوکلعدم قرار دیا جانے والا نوٹیفکشن معطل کیا جاۓ . زیر حراست لیے گے لوگوں کو واپس رہا کیا جاۓ اور کریک ڈاون اور لانگ مارچ کے دوران ہلاک ہونے والوں کی میتیں ورٹا کے حوالے کی جائیں مگر حکومت کا موقف ہے کہ جب تک یہ لوگ سرنڈر نہیں کرتے مذاکرات نہیں ہوں گے۔

30 جون جیک کے کور ممبر شوکت نواز میر کی گرفتاری کے بعد جیک نے پاکستان زیر انتظام کشمیر بھر میں 5 جولائی سے احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

دارالحکومت مظفرآباد میں اتوار کے روز بہت سی کاروباری سرگرمیاں معطل ہوتی ہیں مگر جیک کی پانچ جولائی کی کال کے پیش نظر تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں جبکہ اندرون و بیرون شہر جانے والی ٹرانسپورٹ بھی مکمل بند ہے۔

شہر میں گزشتہ روز سے ہی فورسزز کا فلیگ مارچ جاری ہے مختلف چوکوں چوراہوں میں ایف سی اورمقامی پولیس کے اہلکار تعنیات ہیں۔

مظفرآباد کے نواحی علاقے گن چھتر میں تصادم کے دوران ایک شخص گولی لگنے سے زخمی ہوا جبکہ کئی مرد و خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے مظاہرین کا دعوی ہے کہ پولیس کی جانب سے ایک درجن کے قریب موٹر بائیک کو گہری کھائی میں پھینکنے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے جب کہ حکام اس کی تردید کر رہے ہیں۔

دوسری جانب درجنوں لوگوں نے ائیرپورٹ مظفرآباد کے مقام پر دھرنا دے دیا ہے۔

میرپور کی تحصیل ڈڈیال میں مظاہروں کے دوران ایک شہری ہلاک جبکہ انٹیلج نس بیورو کا ایک انسپکٹر زخمی ہو گیا ہے۔

ایک پولیس اہلکار کے دعوے کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے اہلکار ڈھڈیال شہر کی جانب مارچ کر رہے تھے کہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں روکا۔

پولیس اہلکار کے بقول مظاہرین نے پولیس پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک انسپکٹر زخمی ہو گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں مظاہرین میں شامل ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے شخص نے ہی آئی بی کے افسر پر فائرنگ کی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ ہوائی فائرنگ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں مظاہرین منتشر ہو گئے ہیں۔

پولیس افسر کے دعوے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے چار اہلکاروں کو راولا کوٹ میں کالعدم جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے اغوا کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان پولیس اہلکاروں کو اس وقت اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا گیا جب وہ چھٹی سے واپس اپنی ڈیوٹی پر آرہے تھے۔

Share this content: