بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کشمیر کے رہنما شوکت نواز میر کی گرفتاری کو عوامی اور جمہوری جدوجہد کے خلاف ایک اور انتقامی اقدام سمجھتی ہے۔ جب بھی عوام اپنے بنیادی حقوق، معاشی انصاف اور باعزت زندگی کے مطالبات کے لیے منظم ہوتے ہیں، ریاست کا جواب مذاکرات اور مسائل کے حل کے بجائے گرفتاریوں، ہراسانی اور جبر کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شوکت نواز میر کی گرفتاری دراصل ان تمام عوامی آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے جو اپنے لوگوں کے حقوق، وسائل اور مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ریاست عوامی مطالبات کا سیاسی جواب دینے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کشمیر ہو یا بلوچستان، عوامی حقوق، انصاف اور سیاسی آزادیوں کے لیے آواز اٹھانے والوں کو مختلف شکلوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عوامی رہنماؤں کی گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمران حلقے عوامی شعور، منظم جدوجہد اور اجتماعی مزاحمت سے خوفزدہ ہیں اور ہر قیمت پر ان تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر جبر، گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں کے ذریعے عوام کے سیاسی شعور اور اجتماعی ارادے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ عوامی تحریکوں کو کچلنے کی یہ کوششیں دراصل حکمران طبقے کی سیاسی ناکامی اور عوامی طاقت کے خوف کا اظہار ہیں۔ جب ریاست کے پاس عوامی مطالبات کا کوئی سیاسی جواب نہیں بچتا تو وہ طاقت، گرفتاریوں اور دباؤ کا سہارا لیتی ہے، مگر ایسی ہتھکنڈے نہ عوامی جدوجہد کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی انصاف، حقوق اور آزادی کے مطالبات کو ختم کر سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی شوکت نواز میر اور کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی تحریکوں کو کچلنے کی یہ پالیسیاں نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہیں بلکہ خطے میں سیاسی بے چینی، عدم اعتماد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مزید بڑھاوا دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے کر رہنماؤں کو گرفتار کرنا ، کشمیر کا محاصرہ کرنا اور عوامی تحریک کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کی کوشش فسطائیت ہے۔ یہ اقدامات نفرت انگیزی کا باعث ہے، ریاست ہوش کے ناخن لے اور جبر کے بجائے مکالمے کا انتخاب کریں۔
Share this content:


