امریکا کا ایران میں 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ، 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق

امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ آٹھ جولائی کو ایران کے خلاف کارروائی میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔حملوں  کے بعد ایران کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ لڑائی کے دوران 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ ایران میں فضائی دفاع کے نظام، ساحلی نگرانی کے وسائل، میزائلز اور ڈرونز کی ذخیرہ گاہوں، بحری صلاحیتوں اور ایران کے ساحلی علاقوں میں واقع فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے گئے۔

سینٹ کام کے مطابق گذشتہ روز بھی پاسداران انقلاب کی 60 چھوٹی کشتیوں سمیت ایران میں 80 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کارروائی کو سینٹ کام نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں کا جواب قرار دیا تھا۔

سینٹ کام نے کہا ہے کہ امریکی افواج بدستور چوکس ہیں اور اپنے کمانڈر اِن چیف کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل در آمد کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب ایران کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ لڑائی کے دوران 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وزارتِ صحت کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین کرمان پور نے بتایا کہ 8 اور 9 جولائی کو ایران کے پانچ صوبوں میں امریکی حملوں کے نتیجے میں 78 افراد زخمی بھی ہوئے۔

ان کے مطابق زخمیوں میں سے 47 افراد اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

ادھر جنوبی ایران کے ضلع ایرانشہر کے گورنر نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکی حملے میں ہوائی اڈے کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

Share this content: