باغ/کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ
پاکستان زیر انتظام جموں وکشمیر میں 5 جون کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے مختلف مقامی ذرائع، متاثرہ خاندانوں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے متعدد سنگین دعوے سامنے آئے ہیں۔ ان اطلاعات میں ہلاکتوں، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، زیرِ حراست افراد کی قانونی صورتحال، بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کے سفری دستاویزات کی بندش اور سوشل میڈیا کارکنوں سے متعلق شدید خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 5 جون سے اب تک سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کے دوران تقریباً 30 افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ ان میں سے متعدد کی لاشوں کی حوالگی کے معاملے پر خاندانوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔بعض خاندانوں اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ ہلاک افراد کی لاشیں پاکستانی رینجرزاور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نامعلوم مقامات پر منتقل کی گئیں اور اہلِ خانہ کو میتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز میں بھی افراد کو اپنے عزیزوں کی لاشیں نہ ملنے کے حوالے سے بات کرتے اور روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف کارروائیوں اور رات کو گھروں میں چھاپوں کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اہلِ خانہ اور مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد کے بارے میں معلومات محدود ہیں اور سارے خاندان اپنے عزیزوں کی قانونی حیثیت، مقامِ حراست اور صحت کے بارے میں آگاہی کے منتظر ہیں۔ حتی کے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کئی کور ممبران جن میں بانی تحریک شوکت نواز میر، راجہ امجد علی خان، انجم زمان اور دیگر کارکنان کو دن دیہاڑے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا لیکن کسی کو بھی عدالت میں آج تک پیش نہیں کیا گیا۔جس پر انسانی حقوق سے وابستہ حلقوں نے قانونی طریقہ کار، شفاف تحقیقات اور زیرِ حراست افراد کو قانونی معاونت فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔
اس کے علاوہ ہمارے باوثوق ذرائع کے مطابق بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کو بھی ان حالات کے تناظر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔برطانیہ، یورپ اور امریکہ سمیت مختلف ممالک میں مقیم 30 ہزار سے زائد کشمیری باشندوں کے شناختی کارڈز اور پاسپورٹس بلاک کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے متاثر ہونے والوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو سیاسی، سماجی یا انسانی حقوق کے معاملات پر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق کشمیر کے اندر بھی عوامی تحریک سے جڑے افراد کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جا چکے ہیں ہمارے ذرائع کے مطابق ان میں ایسے افراد شامل ہیں جو جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت میں سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کرتے رہے، تحریری مواد شائع کرتے رہے یا عوامی اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر کچھ فہرستیں بھی گردش کر رہی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان میں بیرونِ ملک مقیم کشمیری کارکنوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے نام شامل ہیں۔ بعض اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ ایسی معلومات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت بعض دیگر ممالک کے متعلقہ اداروں تک پہنچائی گئی ہیں۔
مزید برآں، بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب اور گلف میں مقیم چند کشمیری سوشل میڈیا کارکن لاپتا ہیں اور ان کے اہلِ خانہ اور دوست احباب کو ان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں واضح معلومات نہیں مل سکیں۔
ان تمام اطلاعات کے بعد انسانی حقوق سے وابستہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہلاکتوں، گرفتاریوں، زیرِ حراست افراد، لاشوں کی حوالگی، سفری پابندیوں اور بیرونِ ملک کشمیری کارکنوں سے متعلق سامنے آنے والی معلومات کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور حقائق کو عوام کے سامنے رکھا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں حقائق تک رسائی، قانونی طریقہ کار کی پاسداری اور متاثرہ خاندانوں کو معلومات کی فراہمی سیاسی قیدیوں کو وکیل تک رسائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ نے عوامی ایکشن کمیٹی سے مبینہ مالی یا انتظامی تعاون کرنے والے افراد کے خلاف بھی اقدامات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مختلف اضلاع میں متعدد کاروباری مراکز، دکانوں اور تجارتی اداروں کو سیل کیا گیا ہے۔ سرکاری نوعیت کے نوٹسز ، جو بظاہر مجسٹریٹ کے دفتر سے جاری کیا گیےجن میں صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مبینہ تعلق اور تنظیم کی مالی معاونت کے الزام میں فوری طور پر سیل کیا جاتا ہے۔ نوٹسز میں مزید درج ہے کہ کاروبار اس وقت تک بند رہیں گے جب تک متعلقہ شخص کے خلاف تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے تعلق یا معاونت ثابت ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔جبکہ متعدد کاروباری افراد کو انتظامیہ اور تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیش ہو کر اپنے مالی معاملات، کاروباری لین دین اور عوامی ایکشن کمیٹی سے کسی بھی ممکنہ تعلق کی وضاحت کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ بعض افراد کے بینک اکاؤنٹس اور مالی لین دین کی بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حساس ادارے ان افراد کے مالی ریکارڈ، بینک ٹرانزیکشنز اور مالی معاونت کے ممکنہ ذرائع کی چھان بین کر رہے ہیں۔ حکام کاُکہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو مبینہ مالی یا انتظامی تعاون فراہم کرنے والوں کے بنک اکاؤنٹ کو بند کیا جائےگا اور ان کے نام پر رجسٹر موبائیل سمز بھی بلاک کی جائیں گی اور ایسے افراد کے خلاف سخت سے سخت کاروائیاں کی جائیں گی۔
Share this content:


