پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک مہینے سے زائد عرصے سے جاری ریاستی بربریت کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ عوامی تحریک کو دبانے کے لیے سیاسی پارٹیوں اور فعال کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر منظم انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (JKPNP) کی قیادت کے خلاف جاری کریک ڈاؤن اور سیاسی انتقام پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (JKPNP) جموں و کشمیر کی پہلی بائیں بازو کی سیاسی جماعت ہے جس نے دوٹوک اور غیر مبہم انداز میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان جموں و کشمیر پر پہلا حملہ آور اور قابض ہے۔ اسی اصولی، ترقی پسند اور آزادی پسند سیاست کی پاداش میں پارٹی اپنے قیام سے مسلسل ریاستی جبر، سیاسی انتقام اور منظم نشانہ سازی کا سامنا کر رہی ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ پارٹی کی پوری موجودہ قیادت، بشمول چیئرمین، سیکریٹری جنرل، مرکزی رہنما اور خواتین قیادت، حملوں، ہراسانی، گرفتاریوں، دھمکیوں اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ اقدامات صرف چند افراد کے خلاف نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی نظریے کے خلاف ہیں جو سامراج، عسکریت، قبضے اور ہر قسم کے جبر کی مخالفت کرتا ہے اور جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت، جمہوریت، سماجی انصاف اور قومی آزادی کی جدوجہد کی نمائندگی کرتا ہے۔
پارٹی اعلامیے کے مطابق، یہ صرف جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ جموں و کشمیر میں جمہوری سیاست، آزادیِ اظہار، سیاسی تکثیریت اور بائیں بازو کی سیاست کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر ایک پرامن سیاسی جماعت کو صرف اس کے نظریات کی بنیاد پر دبایا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پورا جمہوری عمل خطرے میں ہے۔
بیان میں تمام جمہوری قوتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں, ترقی پسند سیاسی جماعتوں، دانشوروں، صحافیوں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں، سیاسی انتقام کی مذمت کریں، اور جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی سمیت تمام پرامن سیاسی قوتوں کے جمہوری حقوق، آزادیِ اظہار اور سیاسی سرگرمیوں کے حق کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ کیونکہ خاموشی جبر کو تقویت دیتی ہے، جبکہ جمہوریت اختلافِ رائے کے احترام، سیاسی آزادی اور عوام کے حقِ انتخاب کے تحفظ سے مضبوط ہوتی ہے۔
مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ کشمیر میں حقوق کی بیداری اور عوامی تحریک میں سرگرمی سے حصہ لینے والے افراد اور سیاسی جماعتوں کو کچلنے کے لیے ریاست کی جانب سے غیر معمولی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
تحریک میں شامل رہنماؤں اور کارکنان کے بینک اکاؤنٹس منجمد، جبکہ شناختی کارڈز (CNIC) اور پاسپورٹ سمیت دیگر سفری دستاویزات بلاک کر کے ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندی عائد کی جا رہی ہے۔
عوامی تحریک میں سرگرم سرکاری ملازمین کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں ان کی ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے۔
احتجاج میں پیش پیش افراد کے گھروں، دکانوں اور دیگر نجی املاک کو حکومتی تحویل میں لیا جا رہا ہے۔
علاقائی رپورٹوں کے مطابق، فورسز کی جانب سے رات کی تاریکی اور دن کے اجالوں میں چھاپوں کے دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کو بری طرح پامال کیا جا رہا ہے۔ فورسز گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو شدید ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، چھاپہ مار ٹیموں پر یہ سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں کہ وہ گھروں میں موجود نقدی (کیش)، سونا اور دیگر قیمتی اشیاء کا صفایا کر رہی ہیں۔
Share this content:


