کشمیر میں حالات انتہائی کشیدہ ،فورسز کی مزید نفری تعینات ، لانگ مارچ آج دوپہر سے شروع ہوگی

پاکستان زیر انتظام کشمیر میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں،فورسز کی بڑی نفری کی موجودگی کے باوجود مزید تعیناتیاں کردی گئی ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں آج 15 بروز بدھ کو دوپہر لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لانگ مارچ سے قبل منگل کو پاکستانی فورسز کی نہتے مظاہرین پر فائرنگ سے 10 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن دو اہلکاربھی بتائے جارہے ہیں۔

ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ آج دوپہر دو بجے راولاکوٹ سے مظفر آباد کے لیے روانہ ہو گا اور حکام کے مطابق اس تناظر میں رینجرز، پولیس اور ایف سی کے چار ہزار اہلکار پہلے ہی کشمیر پہنچ چکے ہیں۔

پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے تصدیق کی کہ منگل کے روز راولاکوٹ اور سدنوتی کے مقام پر دو مختلف واقعات میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 10 افراد مارے گئے۔

سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 8 شہریوں کے علاوہ ایک رینجرز کا اہلکار اور ایک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کا اہلکار شامل ہے۔

یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کلپ وائرل ہے جس میں ایک شخص  جس کا تعلق پاکستانی فوج سے بتایا جارہا ہے ،پاکستانی فورسز رینجرز،خفیہ ادارے اور آرمی اہلکاروں کو ہدایت دے رہا ہے کہ وہ کشمیر انتظامیہ کے پولیس کونشانہ بنائیں جس کے بعد ایکشن کمیٹی کو مکمل دہشتگرد قرار دینے کی راہ ہموار ہوگی۔

تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ آج بروزبدھ کی دوپہر شروع کیا جائے گا جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں حکمران اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے، وزرا اور سیاسی تقرریوں میں کمی، سرکاری وسائل کے کفایتی استعمال، اور پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کے لیے مختص اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبات شامل ہیں۔

کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں اور ترقیاتی فنڈز کی ریاست سے باہر منتقلی سے مقامی وسائل پر بوجھ پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے تحت کارکنوں کے خلاف مقدمات ختم کرنے، کریکٹر سرٹیفکیٹس کے اجرا میں رکاوٹیں دور کرنے اور پاکستان رینجرز کی تعیناتی کی مخالفت بھی ان کے مطالبات میں شامل ہے۔

کمیٹی نے مفت اور معیاری تعلیم و علاج، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، عملے، ادویات اور تشخیصی سہولیات کی فراہمی، بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قیام، سرکاری ملازمتوں میں بعض کوٹہ سسٹمز کے خاتمے، آٹے اور گندم کے معیار کی بہتری، گرڈ اسٹیشنز اور قدرتی وسائل پر مقامی اختیار، منگلا ڈیم سے متعلق معاوضوں کی ادائیگی، ماحول دوست ہائیڈرو منصوبوں، کرپشن اور سفارشی کلچر کے خاتمے اور انتظامی اصلاحات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

38 نکاتی فہرست میں نوجوانوں کے لیے بلاسود قرضے، روزگار یا بے روزگاری الاؤنس، ٹیکسوں میں رعایت، معذور افراد کے لیے ملازمتی کوٹہ، عدالتی و بلدیاتی اصلاحات، طلبہ یونین انتخابات، ایڈہاک تقرریوں کا خاتمہ، تاجروں کے تحفظ، کم از کم 50 ہزار روپے ماہانہ اجرت اور سینٹری ورکرز کو زمین کی الاٹمنٹ جیسے مطالبات بھی شامل ہیں۔

Share this content: