مظفرآباد میں ہڑتال، پونچھ ڈویژن میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو 39 دن مکمل

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دفعہ 144، انٹرنیٹ کی طویل ترین بندش اور سکیورٹی کے انتہائی سخت پہرے کے باوجود سیاسی تناؤ عروج پر پہنچ گیا ہے۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم) کی طرف سے آج مظفرآباد کے رخ پر فیصلہ کن لانگ مارچ کی کال کے بعد دارالحکومت میں جزوی شٹر ڈاؤن دیکھا جا رہا ہے۔

لانگ مارچ کے اعلان کے زیرِ اثر مظفرآباد کے اہم تجارتی مراکز، بشمول پلاٹ اور مدینہ مارکیٹ میں زیادہ تر دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔ مسلسل جاری سیاسی بے یقینی کے باعث تجارتی سرگرمیاں معمول سے انتہائی کم ریکارڈ کی گئیں۔

واضح رہے کہ خطے کے مختلف اضلاع میں گزشتہ 36 روز سے پہیہ جام اور تالہ بند ہڑتال کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جس نے نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔

گزشتہ روز صورتحال اس وقت مزید خونریز رخ اختیار کر گئی جب ضلع سدھنوتی کی تحصیل بلوچ اور ضلع راولاکوٹ کے علاقے متیالمرہ میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

ان تازہ تصادمات کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ س2یکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

جھڑپوں کے دوران متعدد افراد شدید زخمی بھی ہوئے جنہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

اس حالیہ جانی نقصان کے بعد خطے میں اب تک جاری رہنے والی مجموعی کشیدگی اور جھڑپوں کے دوران جان کی بازی ہارنے والے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی کل تعداد تین درجن سے تجاوز کر چکی ہے۔

عوامی احتجاج کو روکنے اور معلومات کی رسائی مسدود کرنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے نافذ کی گئی انٹرنیٹ بندش کو آج 39 روز مکمل ہو گئے ہیں۔

مواصلاتی نظام کی اس طویل معطلی نے مقامی آبادی کو شدید معاشی اور سماجی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، جبکہ دوسری جانب لانگ مارچ کے پیشِ نظر مظفرآباد سمیت پورے خطے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے اور راستوں کی ناکہ بندی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

Share this content: