کشمیر میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 8 ہوگئی

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے پونچھ ڈویژن میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات اور بدھ کی صبح سکیورٹی فورسز کی جانب سے نہتے مظاہرین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن اور شیلنگ کے دوران فائرنگ کے مختلف واقعات میں مزید 8 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ایک مہینے سے جاری کریک ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کے نتیجے میں اب تک 30 افراد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ تازہ کارروائیوں کے بعد پورے خطے میں حالات شدید کشیدہ ہو گئے ہیں اور کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

کاشگل نیوز اور مقامی ذرائع کے مطابق، نہتے مظاہرین پر فائرنگ کے یہ مہلک واقعات سدھنوتی کی تحصیل بلوچ بیٹھک اور راولاکوٹ میں بس ٹرمینل کے دھرنے کی طرف فورسز کی پیش قدمی کے دوران پیش آئے۔

کوٹلی سرساوہ سے فورسز کا کانوائے بلوچ بیٹھک کی طرف مارچ کر رہا تھا کہ مقامی شہریوں نے سراں اور بلوچ کے مقامات پر انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران فورسز کی جانب سے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں امیدوار قانون ساز اسمبلی زاہد یاسین، ظفر مغل، ارسلان کبیر، اور احسان اللہ موقع پر ہی گولی لگنے سے دم توڑ گئے۔ اس مقام سے مجموعی طور پر 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

دوسرا واقعہ راولاکوٹ کے بس ٹرمینل پر جاری احتجاجی دھرنے کے مقام پر پیش آیا جہاں فورسز کی فائرنگ اور سیکیورٹی کارروائی کے نتیجے میں 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سون ٹوپہ کے رہائشی واجد حیات،ناصر اور رقیب عابد شامل ہیں جو گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

فائرنگ کے ان واقعات میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

شدید زخمیوں میں شامل رقیب عابد کو دو گولیاں لگی ہیں، جنہیں نازک حالت کے پیشِ نظر راولپنڈی ریفر کر دیا گیا ہے جہاں وہ جاں بر نہ ہوسکےجبکہ اعجاز نامی شہری بھی شدید زخمی ہے۔

راولاکوٹ میں بھاری و چھوٹے ہتھیاروں کے استعمال اور آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے نوجوان ناصر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد پلندری ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں اس کی بھی موت واقع ہوگئی۔

حالیہ ہلاکتوں کے بعد پورے پونچھ ڈویژن میں صورتحال انتہائی دھماکہ خیز ہو چکی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق تراڑکھل میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز شہروں میں گشت کر رہی ہیں اور مختلف مقامات پر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں جس سے شہریوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

علاقے میں گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر بند ہیں۔

فورسز کی جانب سے علاقے کی مسلسل ناکہ بندی کے باعث ہسپتالوں میں ادویات اور عام بازاروں میں اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ یہ ہولناک پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کل 15 جولائی کو مظفرآباد کی جانب اپنے فیصلہ کن اور بڑے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاحال حکومت، ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے ان ہلاکتوں اور سیکیورٹی آپریشن کے حوالے سے کوئی بھی باضابطہ تصدیق یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

Share this content: