عوامی ایکشن کمیٹی کا بلاول بھٹو کے نام خط: فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ ہوگا

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور رکنِ قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری کو آزاد جموں و کشمیر کے سنگین ترین حالات پر ایک باضابطہ اور ہنگامی خط ارسال کیا ہے۔

خط میں ایکشن کمیٹی نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات اور سابقہ تحریری معاہدوں پر عمل درآمد نہ کیا گیا، تو 15 جولائی کے بعد مظفرآباد کی طرف فیصلہ کن لانگ مارچ شروع کر دیا جائے گا۔

ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی ارکان کی جانب سے بھیجے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ تین سالوں سے اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔

خط کے مطابق، 4 اکتوبر 2025ء کو حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر کے ساتھ ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کا ایک تحریری معاہدہ طے پایا تھا، جس پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

خط میں کہا گیا کہ 5 جون سے اب تک نہتے اور پرامن کشمیر عوام پر پاکستانی فورسز کی جانب سے بدترین تشدد اور کارروائیاں کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد نوجوانوں کی شہادتیں ہو چکی ہیں اور ہزاروں نوجوانوں کو جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔

خط میں بلاول بھٹو زرداری کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ راولاکوٹ کے گردونواح میں گزشتہ 34 دنوں سے عوام 6 احتجاجی دھرنے دیے پرامن طور پر بیٹھے ہیں۔ اب 34 دن کے طویل انتظار کے بعد، 15 جولائی 2026ء کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی جائے گی۔

کمیٹی نے اپنے خط میں مولانا فضل الرحمٰن اور پرویز اشرف کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے قومی اسمبلی میں کشمیری عوام کے حق میں آواز اٹھائی، تاہم انہوں نے حکومتِ پاکستان کی سردمہری پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

بلاول بھٹو زرداری کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے خط میں کہا گیا کہ چونکہ آزاد کشمیر میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی حکومت قائم ہے، اس لیے بلاول بھٹو کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر عملی اقدامات کریں۔

فورسز کی جانب سے جاری جارحیت کو فوری طور پر بند کروایا جائے۔ 5 جون سے اب تک ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور اکتوبر 2025ء کے بنیادی حقوق کے تحریری معاہدے پر فی الفور عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ پرامن کشمیری عوام کو "دہشت گرد” قرار دینے کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔

ایکشن کمیٹی نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے استحکام، سالمیت اور اس کے اداروں کے خلاف نہیں ہیں۔ خط کے آخر میں تحریر ہے ہمیں پاکستان کی سالمیت اور استحکام عزیز ہے۔ ہم اپنے بنیادی حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہماری لڑائی مظفرآباد میں بیٹھے ہوئے استحصالی حکمران طبقات سے ہے، ہم پاکستان کے خلاف ہرگز نہیں ہیں۔

خط کے اختتام پر کشمیر کے سنگین ترین حالات کے پیشِ نظر پی پی پی چیئرمین سے ہنگامی بنیادوں پر عملی اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی اپیل کی گئی ہے۔

خط کے آخر میں کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں کے دستخط موجود ہیں جن میں سردار عمر نذیر کشمیری،امتیاز اسلم،خواجہ مہران ارشد ایڈوکیٹ،سردار ارباب ایڈوکیٹ،سعد انصاری ایڈوکیٹ اور راجہ غلام مجتبیٰ شامل ہیں۔

Share this content: